اسلام آباد : عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان میں پولیس اور عوام کے تعلق کی نئی تشریح کرتے ہوئے نوآبادیاتی دور کی ‘غلامانہ زبان’ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے اپنے تاریخی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پولیس افسران عوام کے خادم ہیں، آقا نہیں، اور ریاستی رویوں میں تبدیلی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔’بخدمت جناب‘ اور ’فریادی‘ جیسے الفاظ قصہ پارینہعدالت نے پولیس کو دی جانے والی درخواستوں میں استعمال ہونے والی مخصوص اصطلاحات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انہیں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے
ایس ایچ او (SHO) کا مرتبہ:
اب درخواستوں میں "بخدمت جناب SHO” لکھنا ممنوع ہوگا۔ اس کی جگہ صرف "جناب SHO” لکھا جائے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوام ایس ایچ او کے نوکر نہیں ہیں جو ‘بخدمت’ جیسے الفاظ استعمال کریں۔
’فریادی‘ پر پابندی:
پولیس کارروائی میں اب کسی بھی شہری کے لیے ’فریادی‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوگا، کیونکہ یہ لفظ حق مانگنے کے بجائے ‘رحم مانگنے’ کا تاثر دیتا ہے۔
شکایت کنندہ بمقابلہ اطلاع دہندہ:
ایف آئی آر (FIR) درج کروانے والا اب "شکایت کنندہ” (Complainant) نہیں بلکہ "اطلاع دہندہ” (Informer) کہلائے گا۔ ’کمپلیننٹ‘ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود رہے گی۔
ایف آئی آر میں تاخیر پر سخت وارننگ
سپریم کورٹ نے ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ:مقدمہ درج کرنے میں سستی سے اہم شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اگر کسی پولیس افسر نے ایف آئی آر کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر کی، تو اس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 201 کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جس میں جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کی جانب سے اٹھائے گئے اہم قانونی نکات کو بھی سراہا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نوآبادیاتی سوچ کو مسترد کرنا اور شہریوں کے وقار کو بحال کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
| پرانی اصطلاح | نئی منظور شدہ اصطلاح | وجہ |
| بخدمت جناب SHO | جناب SHO | عوام مالک ہیں، پولیس خادم |
| فریادی | اطلاع دہندہ / شہری | شہری حق مانگتا ہے، رحم نہیں |
| شکایت کنندہ | اطلاع دہندہ (FIR کے لیے) | قانونی عمل کی درست تعریف |

