لاہور/دبئی : کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایک بار پھر شائقین کے لہو کو گرمانے کے لیے تیار ہے۔ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے شیڈول کے مطابق، پاکستان اور بھارت کی نوجوان ٹیموں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ یکم فروری کو کھیلا جائے گا۔ اس میچ کو ٹورنامنٹ کا سب سے اہم اور سنسنی خیز مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔جبکہ بکئے بھی متحرک ہوچکے ہیں اور بڑی تعداد میں میچ پر شرطیں لگائی جارہی ہیں۔
روایتی حریف اور میدانِ جنگ
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچز ہمیشہ سے ہی اعصاب کی جنگ ثابت ہوتے ہیں۔ انڈر 19 کی سطح پر دونوں ٹیموں کے پاس باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جو اپنی کارکردگی سے سینئر ٹیموں میں جگہ بنانے کے لیے بے تاب ہیں۔ شائقینِ کرکٹ ابھی سے اس مقابلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بحث و تکرار کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
پاکستان انڈر 19: شاہینوں نے اس بڑے مقابلے کے لیے اپنی بولنگ لائن اپ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ٹریننگ سیشنز کے دوران فیلڈنگ اور بیٹنگ میں توازن پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بھارت انڈر 19: دفاعی چیمپئن ہونے کے ناطے بھارتی ٹیم پر دباؤ ہوگا، تاہم ان کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کسی بھی بولنگ اٹیک کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ میچ نہ صرف پوائنٹس ٹیبل پر برتری حاصل کرنے کے لیے اہم ہے، بلکہ اس کا فاتح نفسیاتی طور پر ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں مضبوط پوزیشن حاصل کر لے گا۔ ماضی کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ انڈر 19 مقابلوں میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہمیشہ سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کرکٹ کے دیوانے یکم فروری کو اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھنے کو تیار ہیں۔ ماہرینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ جو ٹیم دباؤ کو بہتر طریقے سے برداشت کرے گی، جیت اسی کا مقدر بنے گی۔

