تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پولیس کا نظام محض فائلوں، احکامات اور اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، یہ دراصل انسانوں کا نظام ہے۔ ایسے انسان جو وردی کے ساتھ اپنی خواہشیں، اپنی خوشیاں اور اپنے گھر کے سکون کو بھی اتار دیتے ہیں۔ جو دن رات سڑکوں، ناکوں اور تھانوں میں کھڑے رہتے ہیں، مگر ان کی تھکن، ان کی پریشانیاں اور ان کے زخم اکثر کسی فائل میں درج نہیں ہوتے۔ ایسے میں اگر کوئی افسر اپنے ماتحت کو صرف حکم ماننے والی مشین نہیں بلکہ ایک انسان سمجھ کر سنے، تو وہ افسر نہیں رہتا، وہ سہارا بن جاتا ہے۔ لاہور پولیس لائنز میں منعقد ہونے والا اردل روم اور کھلی کچہری اسی احساس کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے وژن کے تحت ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور نے چار سال بعد وہ دروازہ کھولا جو عرصہ دراز سے بند پڑا تھا۔ ماتحت کے دل تک رسائی کا دروازہ، بغیر کسی سفارش، بغیر کسی خوف کے۔ یہ کوئی کاغذی کارروائی نہیں تھی، یہ درد سننے کا فورم تھا۔ یہاں تنخواہوں کی کٹوتیوں کا دکھ بھی تھا، الاؤنسز کی فائلوں میں الجھی امیدیں بھی، علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے والے ملازمین بھی، اور وہ خاموش سپاہی بھی جو لمبی ڈیوٹی کے بعد بولنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ 47 تنخواہی معاملات ہوں یا رخصت، ترقی، کنفرمیشن اور اپیلز،، عمران کشور نے ہر بات کو کان سے نہیں، دل سے سنا۔ اصل فرق وہیں نظر آیا جہاں فیصلے میز پر نہیں بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیے گئے۔ کئی زخم وہیں بھر گئے، اور جو باقی رہے ان کے لیے وقت بھی دیا گیا اور یقین بھی۔ اسی لمحے پولیس ملازم نے محسوس کیا کہ وہ اکیلا نہیں ہے، اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے اور وہ کوئی فائل نہیں، ایک انسان ہے۔ماتحت پروری صرف سن لینے کا نام نہیں، یہ حوصلہ دینے کا نام ہے۔ اسی حوصلے کی تصویر اس وقت بھی بنی جب پولیس شہداء کے بچوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔ یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا، یہ ریاست کا وعدہ تھا کہ جن باپوں نے وردی میں جان دی، ان کے بچوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ چار سال بعد ہونے والا یہ اردل روم ایک تلخ سوال بھی تھا اور ایک روشن جواب بھی۔ پولیس میں سننے والا کوئی باقی نہیں رہا؟ اور جواب عمران کشور کی صورت میں سامنے آیا۔ اگر نیت زندہ ہو تو نظام بھی سانس لینے لگتا ہے۔
آج جب پولیس فورس تنقید، دباؤ اور ذہنی تھکن کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایسے افسران امید کی کرن بن جاتے ہیں۔ افسران جو فاصلے کم کرتے ہیں، خوف توڑتے ہیں اور ماتحت کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وردی سب کی ایک ہے، فرق صرف کندھوں پر لگے نشانوں کا ہے۔ عمران کشور نے اس اردل روم میں خاموشی سے ایک بات کہی وہی پولیس افسر کامیاب ہے جس کے ماتحت مطمئن ہوں۔


