Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹیکنالوجی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر: ایف بی آر نے سمارٹ واچز اور بینڈز کی کسٹمز ویلیو بڑھا دی، قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ

      سوشل میڈیا پابندیاں: قومی سلامتی یا اظہارِ رائے پر دباؤ؟ڈیجیٹل ترقی کے خواب کو کن خطرات کا سامنا؟

      8 مئی سے انسٹا گرام کی دنیا تبدیل،ہوشیار! آپ کے پرائیویٹ میسجز اب ’خفیہ‘ نہیں رہے

      سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

      روبوٹ بنا مسافر طیارے کی ایک گھنٹہ تاخیر کا باعث

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گل پلازہ حادثہ سانحہ کیسے بن گیا۔۔۔؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن خطرات کو بھانپنے کے باوجود آنکھیں بند کر لینا حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کر دینا مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی اور لاپرواہی کے نتیجے میں جنم لینے والے حادثات اور سانحات واقعات نہیں بلکہ خودکشی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان اجتماعی خود کشیوں کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہوتے ہیں جو سمجھوتوں کے ساتھ آنکھیں بند کر لیتے ہیں آپ ذرا تصور کریں کہ اگر آپ کی گاڑی کی بریک درست کام نہیں کر رہی اور پھر بھی آپ رسک لے کر اسے سڑک پر لے آتے ہیں اور صرف اس سوچ کے تحت کہ پہلے بھی تو چل رہی ہے کچھ نہیں ہو گا اور پھر وہ کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو یہ حادثہ نہیں بلکہ خودکشی ہے اسی طرح اگر کوئی شوگر کا مریض بداعتدالی کرتے ہوئے دوائی نہ لے بلکہ میٹھے پر ہاتھ صاف کر رہا ہو اور اس کے نتیجے میں اس کی موت ہو جائے تو یہ اللہ کی طرف سے آئی نہیں کہیں گے بلکہ یہ سیدھی سیدھی خودکشی ہو گی ہماری معاشرتی بدقسمتی ہے کہ ہم چل چلاو والے کام کرتے ہیں کسی بھی معاملہ میں ایکوریسی نہیں کبھی آپ نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان میں روزانہ ہزاروں ٹریفک حادثات کیوں رونما ہوتے ہیں پاکستان ٹریفک حادثات میں انسانی اموات میں دنیا کے ٹاپ ملکوں میں شمار ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری گاڑیاں مکمل فٹ نہیں ہوتیں ہمارے ڈرائیور مکمل تربیت یافتہ ڈرائیور نہیں ہوتے ہم ٹریفک رولز کی پابندی نہیں کرتے ہم ہر شعبے میں چل چلاو کام کے عادی ہو چکے ہیں آپ تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز کا جائزہ لے لیں کہیں آپ کو بجلی کا پراپر نظام نہیں ملے گا ہر جگہ تاروں کے گچھے لٹک رہے ہوں گے بلڈنگ کی تعمیر کے وقت انفراسٹرکچر اگر دس دوکانوں کا بنایا گیا ہوتا ہے تو ہم وہاں بیس دوکانیں بنا لیتے ہیں بجلی کے ایک میٹر کی گنجائش والے نظام میں دس دس میٹر لگے ہوتے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ طے شدہ ایس او پیز کے مطابق کنکشن نہیں کیا جاتا ایک ہی تار کو چھیل چھیل کر کنڈے لگائے جاتے ہیں اس پر ٹیپ لگا دی جاتی ہے جو ایک وقت کے بعد بوسیدہ ہو جاتی ہے اور یہ تمام کنکشن اور لٹکتی تاریں حادثات کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں اسی طرح بلڈنگ انسپکٹر طے شدہ نقشہ کی خلاف ورزی پر مٹھی گرم ہونے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور طے شدہ داخلی وخارجی راستے بھی دوکانوں کا روپ دھار لیتے ہیں

    پیسے کی ہوس نے انسانیت کو دفن کر دیا ہے ہم ایسی ایسی تعمیرات کی اجازت دے دیتے ہیں جو نظر آ رہی ہوتیں ہیں کہ یہ کسی بھی وقت حادثہ کا باعث بن سکتی ہیں وہاں نہ ہوا کا انتظام ہوتا ہے نہ روشنی کا لیکن ہر کوئی اپنا اپنا حصہ وصول کرکے خاموشی اختیار کر لیتا ہے ذرا سوچیں کہ کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے سانحہ کا رخ کیسے اختیار کیا اب پتہ نہیں یہ آگ حادثاتی طور پر لگی یا لگائی گئی لیکن یہ آگ 26 انسانی جانیں نگل گئی 75 کے قریب افراد لاپتہ ہیں زخمی علیحدہ ہیں اربوں روپے کا لوگوں کا مالی نقصان ہوا ہے یہ پلازہ 500 دوکانوں پر مشتمل تعمیر تھی جو آلٹریشن کرتے کرتے 1200 دوکانوں تک جا پہنچی کہنے کو تو اس کے 14 داخلی وخارجی راستے تھے لیکن تجاوزات اس قدر ہیں کہ دو بندے ایک ساتھ نہیں گزر سکتے اب ذرا اندازہ لگائیں کہ 1200 دوکانوں پر ایک ایک دو دو ملازم بھی ہوں اور ہر دوکان پر دوچار گاہک بھی ہوں تو ہر وقت اس پلازے میں چار پانچ ہزار افراد موجود ہوں گے کیا کبھی کسی نے اس بات کا خیال کیا کہ اتنی بھیڑ کی جگہ میں کسی بھی حادثہ کی صورت میں کس قسم کے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے نہ وہاں کاروبار کرنے والوں نے کبھی اس طرف دھیان دیا نہ وہاں آنے والے گاہکوں نے کبھی اس کا خیال کیا نہ ہی مالکان نے کبھی اس پر توجہ دی اور ہمارا مانیٹرنگ کرنے والا نظام تو اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ وہ آنکھیں بند رکھنے کا باقاعدہ معاوضہ وصول کرتا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر دوکان میں آگ بجھانے کے آلات موجود ہوتے لیکن میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں پورے پلازے میں نہیں ہوں گے اگر کہیں نمائشی طور پر رکھے ہوں گے تو وہ کام ہی نہیں کرتے ہوں ہیں جہاں آگ لگی تھی اگر اسی جگہ پر آلات موجود ہوتے تو آگ کو وہیں قابو کیا جا سکتا تھا فائر بریگیڈ کے آنے تک آگ بےقابو ہو چکی تھی اب صدرمملکت وزیراعظم سے لے کر ہر کوئی اس سانحہ پر افسردگی کا اظہار کر رہا ہے اگر یہی کسی ایک بھی متعلقہ اتھارٹی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہوتا تو لوگوں کو یہ قیامت نہ دیکھنی پڑتی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہم ہر ایسے واقعہ پر غمزدہ ہونے اور ٹسوے بہانے کے بعد پھر بےحسی کی موٹی چادر اوڑھ کر گہری نیند سو جاتے ہیں اس سے قبل کراچی میں اسی قسم کے آگ لگنے کے کتنے واقعات رونما ہو چکے ہیں مجال ہے کہ ہمارے کان پر جوں بھی رینکی ہو ہم ہر حادثے کے بعد دوسرے حادثے کے انتظار میں ہوتے ہیں ہماری ہر تعمیر میں وائلیشن ہوتی ہے غضب خدا کا لاہور میں ایک دفعہ ایل ڈی اے پلازہ میں آگ لگی تھی جہاں کئی لوگ عمارت سے کودنے کی وجہ سے جان سے گئے تھے یہ اس ادارے کی بلڈنگ تھی جس نے شہر میں قواعد وضوابط کے مطابق عمارتیں تعمیر کروانا ہوتی ہیں اس کا اپنا یہ حال تھا کہ وہاں بھی مناسب حفاظتی انتظامات نہ تھے خدارا انسانی جان سب سے زیادہ افضل ہے لیکن لگتا ہے کہ ہمارے ہاں مرنا کسی کو یاد نہیں ذرا گل پلازہ کے سانحہ کا جائزہ لیں وہاں قیامت کے مناظر ہیں جو جان سے گئے ان کے بارے میں تو پتہ ہے لیکن جو لاپتہ ہیں ان کے لواحقین پر کیا گزر رہی ہے ہزاروں خاندان جیتے جی مرگئے ہیں اس تجارتی مرکز سے وابستہ ہزاروں خاندان اس سے پل رہے تھے ان سب کی زندگیاں ایک لمحہ میں اندھیر ہو گئی ہیں حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ ماضی کی طرح اس سانحہ پر مٹی ڈالنے کی بجائے اس کے ذمہ داران کو نشان عبرت بنائیں اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز کی انسپکشن کروائے جہاں حفاظتی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی ہو رہی ہے وہاں سخت ایکشن لیا جائے ہر عمارت میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تجارتی مراکز میں کاروبار کرنے والے لوگوں کو حادثات سے بچنے ان پر قابو پانے کی تربیت دی جائے اس واقعہ کی غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے ذمہ داران کا تعین کرکے انھیں قرار واقعی سزا دی جائے

    Related Posts

    آئی ایم ایف کی جانب سے 1.32 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور

    ارجنٹائن میں ‘ہنٹا وائرس’ کا ہولناک وار: کیسز میں 100 فیصد اضافہ، بحری جہاز سے اترنے والے29 مسافر کہاں گئے؟

    2 ماہ میں 60 فیصد سے ز ائد مہنگا ،پٹرول کی قیمت 415 روپے لٹر مقرر

    مقبول خبریں

    آئی ایم ایف کی جانب سے 1.32 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور

    ارجنٹائن میں ‘ہنٹا وائرس’ کا ہولناک وار: کیسز میں 100 فیصد اضافہ، بحری جہاز سے اترنے والے29 مسافر کہاں گئے؟

    ٹیکنالوجی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر: ایف بی آر نے سمارٹ واچز اور بینڈز کی کسٹمز ویلیو بڑھا دی، قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ

    ایران کا جواب آج متوقع ، ڈیل نہ ہوئی تو ”پراجیکٹ فریڈم پلس“ شروع ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    2 ماہ میں 60 فیصد سے ز ائد مہنگا ،پٹرول کی قیمت 415 روپے لٹر مقرر

    بلاگ

    سچ، قانون اور انصاف، دو معاشروں کی سوچ کا فرق بے نقاب، پنجاب پولیس کا افسر حیران

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.