Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹریفک پولیس اہلکاروں کی چھٹی ؟ چین میں بارش میں ڈیوٹی دیتے روبوٹک اہلکار توجہ کا مرکز

      ایران نے جنگ کے اکھاڑے ، ہتھیار بدل دئیے،سینٹکام کا پہلی ملٹی نیشنل ڈرون ٹاسک فورس ”فالکن اسٹرائک“ کے قیام کا اعلان

      ایک دہائی بعد انسٹاگرام کا لوگو تبدیل: تبدیل شدہ فونٹ پر میمز کی دھوم

      میٹا نے آسٹریلیا میں 7لاکھ 50 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے!

      ” چرسی پائلٹ“ کے انکشاف کے بعد ایئر انڈیا کا تمام پائلٹس کے لیے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

      دھونکل کے محلہ موچی پورہ کی گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اعتماد سازی یا کچھ اور۔۔۔؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    بڑی مشکلوں کے بعد بالاآخر محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ  راجہ ناصر عباس کو بھی سینٹ میں  اپوزیشن لیڈر بنادیا گیا ہے تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈروں کو مختلف کیسوں میں سزا کے بعد ان کی نااہلی کے باعث یہ عہدے خالی ہوئے تھے حکومت اس معاملے میں اپوزیشن کو الجھا کر رکھے ہوئے تھی مسلسل کوششوں کے باوجود قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن نہیں کیا جا رہا تھا حالانکہ تحریک انصاف نے خود کو دستبردار کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا تھا وہ اپنی جماعت کے واحد رکن قومی اسمبلی ہیں لیکن وہ پوری اپوزیشن کی نمائندگی کریں گے اسی طرح راجہ ناصر عباس اکیلے ہی سینٹر ہیں لیکن وہ تحریک انصاف کے پرانے آزمودہ اتحادی ہیں جو ہمیشہ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نظر آئے لیکن محمود خان اچکزئی تو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والوں میں شامل تھے لیکن وقت نے انھیں تحریک انصاف کی راہنمائی کے لیے چن لیا ہے مولانا فضل الرحمن بھی عدم اعتماد میں پیش پیش تھے لیکن موجودہ حکومت نے انھیں بھی لفٹ نہ کروائی وہ اپنے طور پر اپوزیشن کر رہے ہیں اگر انھیں متفقہ اپوزیشن لیڈر بنایا جاتا تو وہ زیادہ کارگر ثابت ہوتے لیکن ایک تو خیبر پختون خواہ میں مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کے مدمقابل ان کے روایتی حریف ہیں دوسرا تحریک انصاف ان پر اعتماد نہیں کرتی ان کا خیال ہے کہ وہ کسی بھی وقت کہیں بھی تحریک انصاف کو بیچ جائیں گے وہ درپردہ تحریک انصاف کی سیاست کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اسی لیے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ راہ ورسم بڑھانے کے باوجود ان پر تحریک انصاف نے اعتماد نہ کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی مولانا فضل الرحمن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اپوزیشن کی ساری جماعتوں کو اکھٹا کرکے پرفارم کرتے ہیں یا تحریک انصاف لائیک مائینڈڈ جماعتوں کی ہی راہنمائی کرتے ہیں محمود خان اچکزئی کی مولانا فضل الرحمن اور میاں نواز شریف سے گہری یاری ہے سوال یہ ہے کہ کیا وہ میاں نواز شریف سے تحریک انصاف کے لیے کوئی سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تحریک انصاف نے اپنے طور پر ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے ان کی دال نہیں گلی لہذا انھوں نے براستہ بھٹنڈہ آنے کا فیصلہ کیا ہے آثار بتا رہے ہیں کہ انھوں نے پارلیمانی معاملات کے لیے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو آگے کیا ہے جبکہ احتجاجی سیاست کے لیے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل خان آفریدی کو تیار کیا جا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے مقبولیت کے باوجود قبولیت نہیں ہو رہی اب معقولیت کا راستہ اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ کسی طرح محمود خان اچکزئی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کے لیے سہولتیں حاصل کی جائیں اگر ہم ماضی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ کام نوابزادہ نصر اللہ خان بڑے احسن طریقے سے انجام دیا کرتے تھے وہ کبھی میاں نواز شریف کو قابل قبول بنانے کے لیے اور کبھی بےنظیر بھٹو کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے حکومت کے خلاف جمہوری قوتوں کو اکھٹا کر کے راستہ نکال لیا کرتے تھے اسی طرح اگر ہم دیکھیں تو میاں نواز کی جلاوطنی ختم کروانے میں بےنظیر بھٹو نے راستہ ہموار کیا تھا اور میاں نواز شریف بھی بےنظیر کے پیچھے پیچھے وطن واپس آگئے تھے موجودہ حالات ماضی سے کافی منفرد ہیں لیکن تحریک انصاف نے فارمولا پرانے والا ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت بھی سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے کم سے کم سہولتیں دے کر اپوزیشن کو انگیج رکھنا چاہتی ہے حکومت کی خواہش ہے کہ اپوزیشن موجودہ حالات پر سمجھوتہ کرلے موجودہ سیٹ اپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے اسے چلنے دے معاملات کو آگے بڑھنے دینے سے ہی کوئی راستہ نکل سکتا ہے لیکن حکومت کسی صورت بھی تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے فری ہینڈ نہیں دینا چاہ رہی حکومت کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں حکومت کرتی رہے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بطور اپوزیشن اپنا پارلیمانی کردار ادا کرے حکومت کو تنگ نہ کرے بلکہ تعاون سے آگے بڑھا جائے تحریک انصاف کی ساری سیاست جارحانہ موڈ کی ہے اگر تحریک انصاف موجودہ سیٹ اپ کو قبول کر کے آگے بڑھنے کی پالیسی پر عمل کرتی ہے تو اس کی عوامی سیاست ڈمیج ہونے کا اندیشہ ہے لہذا تحریک انصاف اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی درمیانی تیسرا راستہ نکالا جائے حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے داو پر ہے اور حکومت اپنے داو پر ہے کچھ مڈل مین ہی بیچ بچاو کروا سکتے ہیں حکومت نے تو قومی اسمبلی میں بھی جو اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی ہے وہ بھی مشروط ہے کہ اپوزیشن ایوان میں ریاست اوراداروں کے خلاف بات نہیں کرے گی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن کے رویہ کے بعد عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر پابندی بھی اگلے ماہ اٹھا لی جائیں گی حکومت نے اپنے طور تحریک انصاف کو مذاکرات کی بھی پیشکش کی ہوئی ہے جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی اپوزیشن
    کے تقرر کو مذاکرات کے لیے اعتماد سازی گردانا جا رہا ہے لیکن اعتماد سازی کے لیے حکومت کے اپنے معیار ہیں جبکہ اپوزیشن کی اپنی خواہشات ہیں فوری طور پر تو یہ بیل منڈے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن موجودہ ماحول لمبے عرصے کے لیے برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں آخر کار کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا سختیاں کم کرکے ماحول میں بہتری لائے بغیر معاملات آگے بڑھ نہیں پائیں گے قدرت نے پاکستان کو ایک اور سنہری موقع دیا ہے آج پاکستان پوری دنیا کو قابل قبول ہے لیکن بدقسمتی سے داخلی معاملات کافی خراب ہیں ہمیں موقع ضائع کرنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کرکے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ اللہ نے جو پاکستان کے لیے دنیا کے راستے کھولے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے

    Related Posts

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    مسافر وین اور چاند گاڑی والوں نے مین روڈ پر اپنی گاڑیوں کو کھڑامعمول بنالیا،شہری پریشان

    مقبول خبریں

    زین حامد کی اداکارہ نمرہ خان کو طلاق

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    ڈارون ٹیسٹ: بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے تاریخی شکست دے کر میچ جیت لیا

    امریکا کی ورجینیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فائرنگ: پانچ طلباء شدید زخمی، کیمپس سیل

    بلاگ

    غیرت کے نام پررخصتی کرنے کے بہانے گھرلاکربیٹی کا قتل

    یومِ آزادی کیسے منایا جائے؟

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.