Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹریفک پولیس اہلکاروں کی چھٹی ؟ چین میں بارش میں ڈیوٹی دیتے روبوٹک اہلکار توجہ کا مرکز

      ایران نے جنگ کے اکھاڑے ، ہتھیار بدل دئیے،سینٹکام کا پہلی ملٹی نیشنل ڈرون ٹاسک فورس ”فالکن اسٹرائک“ کے قیام کا اعلان

      ایک دہائی بعد انسٹاگرام کا لوگو تبدیل: تبدیل شدہ فونٹ پر میمز کی دھوم

      میٹا نے آسٹریلیا میں 7لاکھ 50 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے!

      ” چرسی پائلٹ“ کے انکشاف کے بعد ایئر انڈیا کا تمام پائلٹس کے لیے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

      دھونکل کے محلہ موچی پورہ کی گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گل پلازہ آج بھی جلتا رہا، مزید15 لاشیں برآمد،ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی،40 ابھی بھی لاپتہ،جاں بحق افرادکے لواحقین کو سندھ حکومت کا 1،1کروڑ دینے کااعلان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کراچی :کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ 40 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہ جا سکی۔ درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ امداد کا اعلان کیا ہے۔
    تازہ ترین صورتحال کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو اہلکار متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔
    ریسکیو اہلکاروں نے مزید 15 لاشیں نکال کر سول اسپتال منتقل کردی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔
    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشیں سول اسپتال لائی جارہی ہیں، جن کی شناخت کے لیے پوسٹ مارٹم اور لواحقین کے نمونے حاصل کیے جارہے ہیں۔
    ڈاکٹر سمعیہ طارق نے گل پلازہ سانحے کے بعد لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے سول اسپتال پہنچ کر بلڈ سیمپل اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ لاشوں اور لواحقین سے حاصل کردہ نمونے کراچی یونیورسٹی کے ’انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز‘ کو بھیجے جائیں گے۔
    انہوں نے بتایا کہ یہ ایک وقت طلب عمل ہے، جس کے لیے صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا تاکہ لاپتہ افراد کی شناخت یقینی بنائی جا سکے۔
    دوسری جانب گل پلازہ کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ریسکیو حکام کی جانب سے عمارت کے منہدم ہونے کے خدشے کے باعث عوام کو عمارت سے دور رہنے کی مسلسل ہدایت کی جا رہی ہے۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گل پلازہ کچھ حصے میں بدستور آگ بھڑک رہی ہے جبکہ عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم اور باقی حصہ مخدوش ہے۔
    انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کی حتمی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے تاہم آتشزدگی کی حتمی وجوہات کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔
    کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ 40 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔
    ریسکیو اہلکار تیسرے روز بھی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ عمارت کی تیسری منزل پر پیر کی صبح آگ دوبارہ بھڑک اٹھی جبکہ عمارت مخدوش ہونے کی وجہ سے ملبہ گرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور ان کے موبائل نمبرز حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے 20 سے زائد افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی آئی۔
    اس سانحے میں انسانی المیوں کی کئی دل دہلا دینے والی کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تلاش میں گل پلازہ کے باہر زار و قطار روتی دکھائی دی، اس کا کہنا تھا کہ میرا بچہ اندر موجود ہے، کوئی اسے لے کر آ جائے۔
    ایک اور متاثرہ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ رمضان آنے والا ہے، یہ دکان ہمارے والد کی آخری نشانی تھی، سب کچھ ختم ہو گیا۔ ان مناظر نے وہاں موجود ہر شخص کو غم زدہ کر دیا ہے۔
    ریسکیو کے دوران شہریوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔
    ایک شہری نے اپنی جان پر کھیل کر نیم بے ہوش شخص کو سیڑھی کے ذریعے پہلی منزل سے نیچے اتارا۔
    اسی طرح گل پلازہ میں پھنسے ایک شہری کا موبائل پر بھیجا گیا آڈیو پیغام بھی سامنے آیا، جس میں وہ بتا رہا تھا کہ چاروں طرف آگ ہے اور نکلنا بہت مشکل ہو چکا ہے، اگر اس سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اسے معاف کر دیا جائے۔
    ایک اور متاثرہ خاندان کی بزرگ خاتون نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ آئے تھے۔ تاہم اب ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
    ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس کا بائیس سالہ کزن ہفتے کی رات ساڑھے بارہ بجے فون پر مدد کی اپیل کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہاں بہت زیادہ آگ لگی ہوئی ہے۔
    دوسری جانب لوگ گل پلازہ اور سول اسپتال کے باہر اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ اسپتال کے باہر آویزاں فہرست میں کسی کو نام ملا اور کسی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
    لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے انتظامیہ کو نام درج کروائے ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ شہری معلومات حاصل کر سکیں۔
    سانحے پر اظہار یکجہتی کے طور پر تاجر برادری نے آج کراچی کی تمام الیکٹرانکس اور موبائل مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مارکیٹوں میں قرآن خوانی اور دعا کا اہتمام کیا گیا ہے۔
    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رات گئے گل پلازہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کا لاپتہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے اور عوام شدید جذبات میں ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، اصل ضرورت آگ لگنے کے اسباب جاننے کی ہے۔
    انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جب تک نقصان کا ازالہ نہیں ہوتا وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ تاہم دورے کے دوران بعض شہریوں نے ان پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کی رات گل پلازہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ چھوٹے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ میزنائن اور پارکنگ لاٹس میں دکانیں بنانا ایک سنگین مسئلہ ہے، آگ بجھانے کے انتظامات اور فائر ایگزٹس کی کمی بھی سامنے آئی ہے، اور مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی آمد پر تاجروں نے تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی اور سوال اٹھایا کہ 22 گھنٹے بعد کیوں آئے۔
    سانحے میں جاں بحق ہونے والے تاجر کاشف اور فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ اتوار کو ادا کی گئی۔ تاجر کاشف کی نماز جنازہ گارڈن غفوریہ مسجد میں جبکہ شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کی گئی۔
    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعلیٰ سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے صورتحال دریافت کی اور ہدایت دی کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
    انہوں نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی بھی سفارش کی اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا اور وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی، ساتھ ہی گنجان آباد علاقوں میں آگ پر بروقت قابو پانے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

    Related Posts

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    مسافر وین اور چاند گاڑی والوں نے مین روڈ پر اپنی گاڑیوں کو کھڑامعمول بنالیا،شہری پریشان

    مقبول خبریں

    زین حامد کی اداکارہ نمرہ خان کو طلاق

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    ڈارون ٹیسٹ: بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے تاریخی شکست دے کر میچ جیت لیا

    امریکا کی ورجینیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فائرنگ: پانچ طلباء شدید زخمی، کیمپس سیل

    بلاگ

    غیرت کے نام پررخصتی کرنے کے بہانے گھرلاکربیٹی کا قتل

    یومِ آزادی کیسے منایا جائے؟

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.