اسلام آباد: ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ نے ایک خاتون کے تین بیٹوں اور دو دامادوں کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے معاملے پر سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ اور دیگر اہلکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں اور درخواست کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ شکایت کا معاملہ اس وقت ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن، ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے سامنے زیرِ التوا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے لاہور اس معاملے میں انکوائری کرنے کا مکمل دائرہ اختیار اور اتھارٹی رکھتی ہے۔ تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اس درخواست کو نمٹا دیا ہے۔
مقتولین کے اہل خانہ کے وکیل آفتاب باجوہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مرنے والوں کو پہلے گرفتار کر کے سی سی ڈی لاہور لایا گیا تھا۔بعد ازاں انہیں مختلف اضلاع کے تھانوں میں منتقل کیا گیا۔الزام لگایا گیا کہ ان افراد کو مختلف تھانوں میں جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے قتل کیا گیا۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جعلی پولیس مقابلہ: سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف کارروائی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

