کراچی :کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی شدید آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ بھی منہدم ہو گیا ہے جس کے باعث ریسکیو آپریشن مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت نے لواحقین کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کردیا ہے۔
حکام کے مطابق شہری کسی بھی قسم کی معلومات، امدادی صورتحال یا واقعے میں گمشدہ افراد سے متعلق معلومات 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر رابطہ کر کے حاصل کریں یا گمشدگی سے متعلق تفصیلات فراہم کریں تاکہ ریسکیو اور انتظامی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ فائر فائٹر تھا اور اس کا نام فرقان تھا۔ اس تازہ پیش رفت کے بعد حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے جبکہ ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
ہفتے کی رات سوا دس بجے پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر اچانک آگ بھڑکی جو دیکھتے ہی دیکھتے میزنائن فلور سے ہوتی ہوئی تیسری منزل تک پھیل گئی۔ آگ پر تاحال مکمل قابو نہیں پایا جا سکا ہے، ریسکیو اور فائر فائٹنگ کا عمل مسلسل جاری ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز اور چار اسنارکلز استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ پانی اور فوم کے ذریعے شعلوں کو قابو میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی آپریشن میں شامل ہیں۔ شدید تپش اور دھویں کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کے نتیجے میں اب تک چھ افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد جھلس کر زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 40 سالہ کاشف ولد اکبر، 55 سالہ فراز ولد ابرار، 30 سالہ عامر ولد سلمان، 28 سالہ وزیر ولد اقبال عمر، 25 سالہ فرقان ولد شوکت عمر شامل ہیں جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی جس کی عمر تقریباً 28 سال بتائی جا رہی ہے۔
آتشزدگی سے متاثرہ عمارت سے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود اب بھی دھواں نکل رہا ہے، جس کے باعث ریسکیو حکام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاک بحریہ بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہے اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
پاک نیوی کے ریسکیو آپریشن کی قیادت کیپٹن فرحان شیخ اور لیفٹیننٹ کمانڈر افتخار احمد کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ کمانڈر افتخار احمد کے مطابق پاک نیوی کے پانچ فائر ٹینڈرز اور 70 جوان اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں جو متاثرہ عمارت کے مختلف حصوں میں سرچ اور ریسکیو کے عمل میں مصروف ہیں۔
پاک نیوی کے حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی مزید افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ کمانڈر افتخار احمد نے بتایا کہ پاک نیوی کی ٹیم نے اب تک ایک لاش نکالی ہے جبکہ دیگر ریسکیو اداروں نے چار لاشیں برآمد کی ہیں۔

