تادیپلی گوڈیم: بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع مغربی گوداوری میں مکر سنکرانتی کے تہوار پر ہونے والی روایتی ‘کاک فائٹ’ (مرغوں کی لڑائی) نے ایک شخص کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ محض ایک مقابلے نے رمیش نامی شہری کو ایک کروڑ 53 لاکھ روپے کا مالک بنا دیا، جس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
راجمنڈری سے تعلق رکھنے والے رمیش نے اپنے ‘دیگا’ نسل کے مرغے کو محض ایک پرندہ نہیں بلکہ اپنی آنکھ کا تارہ سمجھ کر پالا تھا۔ اس مرغے کی تیاری کے لیے گزشتہ 6 ماہ سے خاص اہتمام کیا جا رہا تھا، جس میں اسے نہ صرف غذائیت سے بھرپور خوراک دی گئی بلکہ اکھاڑے کے داؤ پیچ کے لیے بھی تیار کیا گیا تھا۔
سیتھوا بمقابلہ دیگا
تادیپلی گوڈیم میں پابوئینا وینکٹرامیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس مقابلے میں ہزاروں کا مجمع اکھٹا تھا۔ مقابلہ دو نامور نسلوں کے درمیان تھا:
سیتھوا نسل: گوڈیواڈا کے پربھاکر کا پالتو مرغ۔
دیگا نسل: راجمنڈری کے رمیش کا شاہکار مرغ۔
لڑائی شروع ہوتے ہی دونوں جانب سے شدید حملے ہوئے، لیکن رمیش کے ‘دیگا’ مرغے نے اپنی چستی اور طاقت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ حریف کو دھول چٹا دی۔
مقابلے کے اختتام پر جب جیت کا اعلان ہوا تو مجمع حیران رہ گیا کیونکہ رمیش نے اس ایک جیت سے 1 کروڑ 53 لاکھ روپے کی خطیر رقم اپنے نام کر لی تھی۔ سنکرانتی کے سیزن میں اتنی بڑی رقم کا جوا اور جیت ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جیت کے بعد رمیش کے دوستوں اور چاہنے والوں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا اور ڈھول کی تھاپ پر جشن منایا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گوداوری کے اضلاع میں یہ روایتی کھیل محض تفریح نہیں بلکہ کروڑوں روپے اور عوامی جذبات کا مرکز بن چکا ہے۔

