تہران:امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے درمیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر بمباری کی جائے گی۔
قالیباف نے آج اتوار کے روز تصدیق کی کہ ان کے ملک پر کسی بھی حملے کا جواب اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا، جنہیں انہوں نے "جائز اہداف” قرار دیا۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول دشمن اندرونی طور پر دہشت گرد جنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔تاہم انہوں نے حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ زرِمبادلہ کی شرح کو قابو میں رکھنے اور شہریوں کی قوتِ خرید بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ایرانی پارلیمان نے آج ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر بحث کے لیے اجلاس منعقد کیا، جس کے دوران ارکانِ پارلیمان نے نعرہ لگایا: ”امریکا مردہ باد!”یہ بیان ان اطلاعات کے بعد آیا ہے ،جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر انتہائی ہائی الرٹ پر ہے، جو ایران بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت کے لیے ہو سکتی ہے۔
تہران پرحملہ ہوا تو امریکی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے، ایران کی وارننگ

