سڈنی (نیوز ڈیسک): آسٹریلیا نے ایک بار پھر اپنی سرزمین پر ناقابلِ شکست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پانچویں اور آخری ایشز ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 5 وکٹوں سے ہرا کر سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (SCG) میں کھیلے گئے اس میچ میں آسٹریلیا نے کھیل کے پانچویں روز 160 رنز کا ہدف حاصل کر کے ٹرافی ایک بار پھر اپنے قبضے میں کر لی۔
مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ
آسٹریلیا کی اس تاریخی کامیابی کے پیچھے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک کا کلیدی کردار رہا۔ اسٹارک نے پوری سیریز میں اپنی برق رفتار بولنگ سے انگلش بلے بازوں کو بے بس رکھا اور مجموعی طور پر 31 وکٹیں حاصل کیں۔ پانچویں ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی انہوں نے اہم وکٹیں لے کر انگلینڈ کی بڑی برتری کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
اسٹیو اسمتھ کے تاریخی ریکارڈز
اس سیریز کو اسٹیو اسمتھ کے ریکارڈز کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے سڈنی ٹیسٹ میں اپنی 37 ویں ٹیسٹ سنچری اسکور کر کے انگلینڈ کے لیجنڈری بلے باز جیک ہابس کا 96 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ اسمتھ اب ایشز کی تاریخ میں سر ڈان بریڈمین کے بعد سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے دوسرے بلے باز بن گئے ہیں۔
انگلینڈ کی مزاحمت اور جیکب بیتھل کا ابھرتا ہوا ستارہ
اگرچہ انگلینڈ سیریز ہار گیا، لیکن نوجوان بلے باز جیکب بیتھل نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری (154 رنز) کے ذریعے دنیائے کرکٹ کو متاثر کیا۔ ان کی دلیرانہ بیٹنگ کی بدولت انگلینڈ اننگز کی شکست سے بچنے میں کامیاب رہا۔ فاسٹ بولر جوش ٹنگ نے بھی آخری اننگز میں 3 وکٹیں لے کر آسٹریلیا کے لیے 160 رنز کا ہدف مشکل بنانے کی کوشش کی، تاہم الیکس کیری اور کیمرون گرین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ سے فتح یقینی بنائی۔
سیریز کا مختصر جائزہ
-
فاتح: آسٹریلیا (4-1)
-
سیریز کا بہترین کھلاڑی: مچل اسٹارک
-
نمایاں بلے باز: اسٹیو اسمتھ (تاریخی سنچری) اور ٹریوس ہیڈ
-
انگلینڈ کی مثبت بات: جیکب بیتھل کی شاندار سنچری
اس فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہوم گراؤنڈ پر انہیں زیر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ دورہ کافی سبق آموز رہا، جہاں انہیں اپنی بیٹنگ لائن اور اسپن بولنگ کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔


