لاہور: شہریوں کی نجی زندگی اور پرائیویسی کے حوالے سے لاہور کی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے پولیس یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے شہریوں کے موبائل فون کی بلاجواز تلاشی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج لاہور شفقت راجہ نے قرار دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون، اس میں موجود ڈیٹا، پیغامات، تصاویر یا سوشل میڈیا مواد عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتی۔کیونکہ موبائل فون اب محض ایک آلہ نہیں بلکہ انسان کی نجی زندگی کا آئینہ دار ہے، جس کی حفاظت آئینِ پاکستان کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار کسی شہری کو روک کر اس کے موبائل فون کا ڈیٹا، تصاویر یا پیغامات چیک کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ ایسا کرنے کے لیے متعلقہ عدالت سے باقاعدہ سرچ وارنٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر اجازت موبائل فون کی تلاشی لینا آئین کے آرٹیکل 14 (عزتِ نفس اور گھر کی رازداری کا تحفظ) کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سڑکوں پر ناکوں کے دوران شہریوں کو ہراساں کرنا اور ان کے فونز دیکھنا اختیارات سے تجاوز ہے، جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔
شہریوں کے لیے پیغام
اس فیصلے کے بعد اب شہریوں کو یہ قانونی تحفظ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی تلاشی پر احتجاج کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی اہلکار زبردستی فون مانگے تو شہری اس سے عدالتی حکم نامہ طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
بڑا فیصلہ، پولیس آپ کا موبائل فون چیک نہیں کر سکے گی! لاہور کی عدالت نے ڈیجیٹل تلاشی کو غیر قانونی قرار دے دیا

