تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
یہ مسئلہ اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہا۔ بالوں کا جھڑنا اور گنج پن تیزی سے خواتین میں بھی بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف ظاہری حسن بلکہ ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ غذائی کمی، غیر معیاری مصنوعات اور عطائی علاج خواتین میں بالوں کے مستقل نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ انکشاف پرل کنٹینینٹل ہوٹل لاہور میں منعقدہ بالوں کی کمی اور علاج سے متعلق قومی سیمینار میں کیا گیا، جس کا اہتمام جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، آرمی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور سوسائٹی آف فیملی فزیشنز آف پاکستان نے کیا۔
ہارمونل عدم توازن،وٹامنز ،منرلز کی کمی خواتین کے بال جھڑنے کی بڑی وجہ ، ڈاکٹر ہمایوں مہمند
ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بالوں کی کمی ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور اب خواتین بھی بڑی تعداد میں اس کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق وٹامنز اور منرلز کی کمی، ناقص غذا اور ہارمونل عدم توازن خواتین میں بالوں کے جھڑنے کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ 100 سے 150 بالوں کا گرنا معمول ہے، مگر اس سے زیادہ بال گرنا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے، جس کا بروقت علاج ضروری ہے۔

ڈاکٹر مسعود شیخ نے کہا کہ بالوں کی کمی صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ شخصیت اور اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق جدید اور نیچرل طریقوں، جیسے PRP اور ہیئر ٹرانسپلانٹ، کے ذریعے نہ صرف بال بحال ہو سکتے ہیں بلکہ خواتین کی خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ بھی ممکن ہے۔
خواتین کے گنج پن کی بڑی وجہ عطائیوں کے اسٹرائیڈزاور کیمیکل ہئیر پروڈکٹس، کیپٹن ڈاکٹر قاسم خان
کیپٹن ڈاکٹر قاسم خان نے غیر معیاری شیمپو، کیمیکل والے ہیئر پروڈکٹس اور عطائیوں کے تجویز کردہ اسٹیرائیڈز کو خواتین میں گنج پن کی بڑی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر مشہور گھریلو ٹوٹکوں اور غیر مستند علاج نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دیگر مقررین، جن میں ڈاکٹر طارق عزیز، ڈاکٹر اسد عباس شاہ، ڈاکٹر صارم، ڈاکٹر جاوید ممتاز، ڈاکٹر عاصم فاروقی، ڈاکٹر میاں طارق اور ڈاکٹر محمد اشرف شامل تھے، نے زور دیا کہ خواتین کو بالوں کے مسئلے پر شرمندگی کے بجائے بروقت مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق:
متوازن غذا
اصل وٹامنز اور منرلز
مستند میڈیکل مشورہ
غیر معیاری مصنوعات سے پرہیز
ہی وہ عوامل ہیں جو خواتین کو گنج پن سے بچا سکتے ہیں۔
یہ سیمینار خواتین کے لیے ایک واضح پیغام چھوڑ گیا:
بال صرف حسن نہیں، صحت اور اعتماد کی علامت ہیں — اور لاپرواہی کا خمیازہ دیرپا ہو سکتا ہے۔



