حیدر آباد،بھارت: فاسٹ فوڈ کھانے والے خبردار ، بھارت میں 18 سالہ طالبہ الما ندیم کی دہلی کے رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال میں فاسٹ فوڈ کھانے سے موت ہوگئی۔
الما کو ایک ماہ قبل ٹائیفائیڈ ہو گیا تھا اور تب سے ان کی طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ ٹیسٹ میں الما کے دماغ میں متعدد سسٹ پائے جانے کا انکشاف ہوا، ممکنہ طور پر فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والی گوبھی سے ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے۔
نوئیڈا کے ایک نجی اسپتال میں الما کا سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کرایا گیا۔ ڈاکٹروں کو اس کے دماغ میں 20-25 سسٹ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیراسائٹ انفیکشن کی وجہ سے ہوسکتا ہے، شاید فاسٹ فوڈ میں استعمال کی جانے والی بند گوبھی سے۔ وہ نو دن تک آر ایم ایل ہسپتال میں زیر علاج رہی۔ سرجن نے اس کے دماغ کا آپریشن کیا لیکن وہ بچ نہیں سکی۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں امروہہ میں ایک اور طالبہ فاسٹ فوڈ کھانے سے فوت ہو گئی تھی۔ 11ویں جماعت کی طالبہ آہانہ دہلی کے ایمس میں زیر علاج تھی۔ بہت زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے سے اس کی آنتیں بند ہوگئیں، اس کے نظام انہضام کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کی سرجری ہوئی، لیکن وہ بھی انتقال کر گئی۔ اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ گھر کے پکے کھانے کے بجائے باقاعدگی سے پیزا، چاؤ مین اور برگر کھاتی تھی، جو بالآخر اس کی موت کا باعث بنی۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیپ ورم کے انڈے آلودہ مٹی، پانی یا ہینڈلنگ کے ذریعے پتوں والی سبزیوں یا جڑ والی سبزیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر سبزیوں کو صحیح طریقے سے نہ دھویا جائے یا پکایا جائے تو پیرا سائٹ خون میں داخل ہو کر دماغ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے جسے نیورو سیسٹیرکوسس کہتے ہیں، دماغی انفیکشن جو دورے، سر درد اور جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

