لاہور،وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے میں نمایاں اور عملی اقدامات کیے ہیں، جن کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔صحافیوں کو بکاؤ میڈیا کہنے پر ایوان سے احتجاجا۬ واک آؤٹ کیا۔
پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں جدید کینسر اسپتال تعمیر کیے جا رہے ہیں، جہاں کینسر کے علاج کے لیے جدید ترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سرگودھا اسپتال کی نئی بلڈنگ چند مہینوں میں مکمل کر لی جائے گی، جس سے علاقے کے عوام کو معیاری طبی سہولتیں میسر آئیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کینسر اسپتال سے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے مریض مستفید ہوں گے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مریم نواز ہیلتھ کلینک منصوبہ کامیابی سے کام کر رہا ہے، جس کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صحت اور امن و امان سے متعلق حکومت کے وعدے پورے کیے جا چکے ہیں، جبکہ صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں دانتوں کے علاج کے لیے بھی بہترین اور جدید اقدامات کیے گئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے بعض واقعات پر بھی تشویش کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے اسٹاف نے صحافیوں پر تشدد کیا اور انہیں دھکے دیے، جو قابل مذمت عمل ہے۔
صانہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز ایک اپوزیشن رکن نے پریس گیلری میں موجود صحافیوں کو ’بکاؤ میڈیا‘ کہا، جو صحافتی برادری کی توہین ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو پلانٹ کیا تھا، جسے انہوں نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے جھوٹا الزام قرار دیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ اپنے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر وہ ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر رہی ہیں، انہوں نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کا بھی اعلان کیا۔

