اسلام آباد :اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف کے خلاف معروف وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرّحیم ایڈووکیٹ نے ریفرنس دائر کردیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے درخواسٹ گزار کرنل انعام الرحیم نے جسٹس محمد آصف کو ریسپانڈنٹ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے متوفی لڑکیوں کے قانونی ورثا پر دباؤ ڈالا تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6 دسمبر 2025 کو علاقہ مجسٹریٹ نے ان کے بیٹے کو خفیہ طریقے سے ضمانت پر رہا کر دیا اور بعد میں عدالتی اوقاتِ کار کے بعد ان کیمرا یا خفیہ طریقہ کار سے فریقین کے درمیان سمجھوتے کے بیانات درج کیے گئے تاکہ کیس کو قابل تصفیہ ظاہر کیا جا سکے۔
تمام قانونی وارثوں کے بیانات درج نہیں کیے گئے کیونکہ شکایت کنندہ کے بھائی اور بہن حاضر نہیں ہوئے اور متوفیہ کی والدہ تابندہ بتول کا بیان بھی درج نہیں کیا گیا۔
مذکورہ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے درخواست گزار نے لکھا ہے کہ 02 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 1:30 بجے اسلام آباد کے کانسٹیٹیوشن ایونیو نزد سیکرٹریٹ چوک پر ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں جسٹس محمد آصف کے 16 سالہ بیٹے ابوذر نے غیر کسٹم پیڈ وی ایٹ گاڑی بے احتیاطی اور تیزرفتاری سے چلائی جس پر جعلی نمبر پلیٹ لگائی گئی تھی۔ اس گاڑی سے بعد 2 لڑکیوں کو ٹکر ماری گئی جو روزگار کمانے کے بعد اسکوٹر پر گھر واپس جا رہی تھیں۔
درخواست گزار کے مطابق جسٹس محمد آصف واقعہ کے مقام پر پہنچے تو ایک متاثرہ لڑکی ابھی زندہ تھی اور انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مدد فراہم کی جاتی تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی لیکن انہوں نے اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں کی حفاظت کو ترجیح دی نتیجتاً دونوں لڑکیاں موقع پر دم توڑ گئیں۔
بیٹے کی لاپرواہی سے ڈرائیونگ سے دو کمسن لڑکیوں کی ہلاکت، جسٹس محمد آصف کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

