لاہور:پنجاب اسمبلی میں خیبر پختواہ کے وزیر اعلی کی آمد پر ہلڑ بازی اور لڑائی جھگڑے پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کمیٹی کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کودینے کااعلان کردیا،
پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ جو لوگ مکہ مدینہ اور مدینہ منورہ جیسی مقدس زمین کا تقدس نہیں کرتے وہ جمہوریت اور پنجاب اسمبلی کا کہاں احترام کریں گے جن لوگوں کا نام اور شناختی کارڈ مہمان لسٹ میں موجود نہیں تھا انہوں نے دنگا فساد اور مار کٹائی کی جسے بالکل برداشت نہیں کریں گے پنجاب اسمبلی خالا کا گھر نہیں جو ہر کوئی اپنی مرضی سے آ جائے اگر سہیل آفریدی آنا چاہتے تھے تو قانون کا احترام تو کرتے۔ غنڈہ گردی کرنے کے بعد مریم نواز کے متعلق جو باتیں کہی گئیں وہ انتہائی شرمناک ہیں، انہوں نے پنجاب اسمبلی میں لڑائی جھگڑے پر تحقیقاتی کمیٹی کے رپورٹ بھی میڈیا کے سامنے پیش کردی۔
ملک محمد احمد خان کاکہنا تھاکہ انتیس چھائونیوں پر ایک ہی دن میں حملہ کیا گیا جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی یہ عوامی ردعمل نہیں بلکہ منصوبہ بندی تھی اگر آپ میں برداشت نہیں ہے جمہوریت کا دھندہ بند کردیں اگر فوج کی مدد سے بانی پی ٹی آئی کو اقتدار پر بٹھا دیں تو پھر جنرل فیض ٹھیک ہے وگرنہ اس ادارے کو گالی دی جاتی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھاکہ کہ املاک کو نقصان پہنچانے والے اور انسانوں پر حملہ کرنے والے سیاسی کافروں کو اب چھوڑا نہیں جائے گا۔

