تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
ایک طرف آسمان کی بلندیوں میں محبت نے پرائیویٹ جیٹ کو شادی ہال بنا لیا، دوسری طرف زمین پر پاکستان نے اپنی قومی ایئرلائن کے حصص فروخت کر دیے، اور تیسری جانب ایک ذاتی محفل میں ایسا انکشاف ہوا کہ طنز بھی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں 25 سالہ خاتون اور 95 سالہ بزرگ نے پرائیویٹ جیٹ میں شادی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ جب وسائل دستیاب ہوں تو شادی نہ صرف منفرد بلکہ خبر بھی بن جاتی ہے۔ جہاز فضا میں محوِ پرواز تھا، نکاح مکمل ہوا، اور محبت نے اعلان کر دیا کہ عمر واقعی صرف ایک عدد ہے—بس بعض اعداد غیر معمولی ہوتے ہیں۔اسی دوران زمینی حقیقت یہ رہی کہ پاکستان نے مالی دباؤ کے تحت قومی ایئرلائن کے حصص فروخت کر دیے۔ یوں ایک طرف ملک کی ہوابازی “شیئرز” میں بٹتی رہی، اور دوسری طرف ایک بزرگ شہری اپنی ذاتی پرواز میں نئی زندگی کا آغاز کرتا دکھائی دیا۔ ناقدین کے مطابق فرق صرف اتنا تھا کہ ایک پرواز نجی تھی اور دوسری قومی، مگر دونوں خبروں نے عوام کو یکساں چونکا دیا۔اصل دھماکہ مگر اس وقت ہوا جب چند ماہ بعد 95 سالہ دولہا نے دوستوں کی محفل میں اعلان کیا کہ اُن کی اہلیہ امید سے ہیں۔ لمحہ بھر کو محفل میں خاموشی چھا گئی، جیسے سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہو۔اسی خاموشی کو توڑتے ہوئے ایک دوست نے طنز کا سہارا لیا اور پرانی کہانی سنا دی“ایک شکاری شکار کے لیے جنگل گیا، وہاں پہنچ کر یاد آیا کہ بندوق گھر رہ گئی ہے۔ اتنے میں سامنے شیر آ گیا۔ شکاری نے گھبرا کر بازو کو بندوق بنایا، آنکھ کے ساتھ لگایا، منہ سے ‘ٹھاہ’ کی آواز نکالی—اور شیر زمین پر گر کر مر گیا۔”سب حیران کہ شیر مرا کیسے؟ جواب آیا“گولی یقیناً کسی اور نے ماری ہوگی۔”دوست نے مسکرا کر نتیجہ نکالا “میں بھی بس یہی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔”یوں یہ واقعہ صرف فضا میں ہونے والے نکاح تک محدود نہ رہا، بلکہ قومی معیشت، نجی پرواز، اور سماجی طنزبھی تینوں ایک ہی خبر میں آ گئے۔ جہاں قانون مطمئن دکھائی دیتا ہے، عوام حیران ہیں، اور طنز بدستور پوری پرواز کے ساتھ جاری ہے۔


