اسلام آباد:پاکستانی جیو سائنس ایڈوانس ریسرچ لیبز کو بین الاقوامی سطح پر توثیق حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد ان لیبز میں کیے جانے والے ٹیسٹ نتائج پوری دنیا میں قابلِ قبول ہوں گے۔
جیو سائنس ایڈوانس ریسرچ لیبز نے تعمیرِ نو کے بعد نومبر 2025 میں دوبارہ کام کا آغاز کیا تھا۔ ایس آئی ایف سی کے بھرپور تعاون اور سہولت کاری کے باعث ان لیبز نے آئی ایس او 17025 اور جوائنٹ اور ریزرو کمیٹی (JORC) کی سرٹیفیکیشن حاصل کی ہے۔ آئی ایس او 17025 ایک بین الاقوامی سرٹیفیکیشن ہے جو لیب ٹیسٹ کے نتائج کی درستگی اور صلاحیت کی تصدیق فراہم کرتی ہے، جبکہ جورک سرٹیفیکیشن کے تحت معدنیات سے متعلق ٹیسٹ نتائج کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
جیو سائنس ایڈوانس ریسرچ لیبز کی جانب سے بین الصوبائی تعاون کے ساتھ ایک جامع معانیاتی پالیسی کا مسودہ بھی تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس ادارے نے ملک بھر کے معدنی وسائل کے وسیع پیمانے پر نقشہ جات تیار کرنے کے لیے انتھک محنت سے کام کیا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد نیشنل منرل ڈیٹابیس سینٹر پر سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معدنی وسائل سے متعلق آن لائن ڈیٹا فراہم کرنا ہے۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے مشیر ڈاکٹر حامد اشرف کے مطابق ایس آئی ایف سی اور حکومت کے تعاون سے جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے تحت ایک ہم آہنگ اور یکساں ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جیو سروے آف پاکستان نغمہ حیدر نے بتایا کہ ادارے میں قائم ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سینٹر کے ذریعے اب تک بڑی تعداد میں افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیو سروے آف پاکستان ماریہ اعوان کے مطابق معدنیات کی محفوظ اور درست شناخت کے لیے معدنی مراحل کا تعین کیا جاتا ہے اور ان کی ساخت اور خصوصیات کی جانچ کی جاتی ہے

