تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجاب بھر میں بیوروکریسی میں ایک بار پھر بڑی سطح پر رد و بدل کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام اضلاع میں تعینات اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور اے ڈی سی جنرل کی کارکردگی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں، جس کے بعد انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑے بونچھال کی تیاری مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام محض سیاسی دباؤ یا ارکان اسمبلی کی شکایات تک محدود نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک منظم، ادارہ جاتی اور شواہد پر مبنی طریقۂ کار اپناتے ہوئے فیصلہ سازی کا واضح عندیہ دیا ہے۔ پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر انتظامی ماحول کو مؤثر، غیر جانبدار اور فعال بنانے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے، تاہم متعدد اضلاع سے ارکان صوبائی اسمبلی کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور اے ڈی سی جنرل کے خلاف ناقص کارکردگی، عوامی مسائل کے حل میں سستی اور انتظامی بے حسی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ان شکایات کو محض سیاسی بیانات سمجھ کر نظرانداز کرنے یا بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے، وفاقی و صوبائی انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی کہ وہ تمام اضلاع کی بیوروکریسی کی مجموعی کارکردگی، عوامی شکایات، مبینہ کرپشن، نااہلی اور گورننس کے معیار پر جامع رپورٹس مرتب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (CMIT) کی رپورٹس کو بھی فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ صرف ارکان اسمبلی کی سفارشات یا دباؤ پر کسی افسر کو ہٹایا یا تعینات نہیں کیا جائے گا، بلکہ انٹیلی جنس رپورٹس، انسپکشن ٹیم کی فیلڈ فائنڈنگز اور متعلقہ افسران کے انٹرویوز کے بعد ہی تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کا حتمی فیصلہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں نئے افسروں کی تعیناتی کے لیے ابتدائی اسکریننگ اور انٹرویوز کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ طرزِ عمل ان کی گورننس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ایک فعال، جوابدہ اور عوام دوست بیوروکریسی تشکیل دینا ہے۔ ماضی کے برعکس، موجودہ حکومت میں افسران کی کارکردگی کو سیاسی وابستگی کے بجائے نتائج، شفافیت اور عوامی اطمینان کے پیمانے پر پرکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں صوبے کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان ہے، جسے پنجاب میں انتظامی اصلاحات کی ایک نئی لہر قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل انتظامی مشینری کو متحرک اور غیر متنازع بنانا وزیر اعلیٰ کی اولین ترجیح ہے تاکہ نچلی سطح تک گورننس کے ثمرات منتقل کیے جا سکیں۔


