اسلام آباد :وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں 8 فروری تک معطل رہیں گی۔
انھوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل کو سیاسی جماعت کا ہیڈکوارٹرز نہیں بنایا جا سکتا۔ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف پر الزام لگایا کہ وہ اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف ’زہر پھیلا رہی ہے‘۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کے درمیان ملاقاتیں معمول کے مطابق ہوتی رہیں اور حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعد میں یہ ملاقاتیں جیل کے باہر سیاسی پریس کانفرنسوں میں بدل گئیں اور پی ٹی آئی نے ایسے بیانیے تشکیل دینا شروع کیے جو ’بھارتی میڈیا پر چلائے گئے‘۔
ادھر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اس فیصلے کو انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’قید تنہائی میں رکھنا آئین کے مطابق تشدد کے مترادف ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پرامن احتجاج کرنے والوں پر واٹر کینن اور تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔
عمران خان سے ملاقاتیں 8 فروری تک معطل، جیل کو سیاسی پارٹی کا ہیڈ کوارٹر نہیں بنا سکتے، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

