تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
مظفرگڑھ میں شہید کنسٹیبل محمد اقبال بھٹی کی صاحبزادی فوزیہ اقبال کی شادی صرف ایک تقریب نہیں رہی، بلکہ یہ قربانی، وفا اور ریاستی ذمہ داری کی ایک جیتی جاگتی مثال بن گئی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید غضنفر علی شاہ نے شہید کی قربانی کو عملی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایسا کردار ادا کیا جو وردی کے وقار اور انسانیت دونوں کی ترجمانی کرتا ہے۔
شہید کی صاحبزادی کی بارات کو ڈسٹرکٹ پولیس کی میزبانی میں دلہا کے گھر سے پولیس اسکواڈز، ایلیٹ فورس، ٹریفک پولیس اور متعلقہ ایس ایچ اوز کی قیادت میں خصوصی پروٹوکول کے ساتھ رائل میرج ہال لایا گیا۔ بارات کے استقبال پر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز نے دلہا محمد عاطف منظور کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے جبکہ پولیس جوانوں نے دلہا پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ دلہن فوزیہ اقبال کا استقبال خواتین پولیس افسران اور اہلکاروں نے کیا، جنہوں نے نہ صرف گل پاشی کی بلکہ خصوصی پروٹوکول کے ساتھ دلہن کو اسٹیج تک لے گئیں۔ یہ منظر ہر آنکھ کو نم اور ہر دل کو مطمئن کر گیا کہ شہید کی بیٹی اس دن اکیلی نہیں تھی، پوری پولیس فورس اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ ڈی پی او سید غضنفر علی شاہ نے شادی کی میزبانی کرتے ہوئے دلہن کے سر پر دستِ شفقت رکھا، پھولوں کے گلدستے اور تحائف پیش کیے اور دلہا کو بھی تحائف اور گلدستہ دیا۔ یہ لمحہ اس بات کا عملی اعلان تھا کہ شہداء کے اہلِ خانہ پولیس فیملی کا حصہ ہیں اور ان کی خوشیوں اور غموں میں ادارہ برابر کا شریک ہے۔ تقریب کے اختتام پر پولیس اسکواڈز نے بارات کو اسی عزت و احترام کے ساتھ خصوصی پروٹوکول میں واپس دلہا کے گھر تک پہنچایا۔ مظفرگڑھ میں یہ شادی ایک مثال بن گئی کہ اگر ریاست اور ادارے چاہیں تو شہداء کی قربانیوں کا حق صرف بیانات سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔