کیلے فورنیا: امریکا کے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ کمپیوٹر چپس بنانے والی امریکی کمپنی اینویڈیا (Nvidia) کو اپنی جدید ایچ 200 (H200) چپ چین میں منظور شدہ صارفین فروخت کرنے کی اجازت دیں گے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ہم قومی سلامتی کا تحفظ کریں گے، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں گے، اور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے میدان میں امریکی برتری برقرار رکھیں گے۔‘
امریکی صدر کا یہ فیصلہ اے ایم ڈی جیسی دیگر کمپیوٹر چپ بنانے والی کمپنیوں پر بھی لاگو ہو گا۔ یاد رہے کہ اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے اس منظوری کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ کی تھی اور اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا تھا۔
دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اور معروف چپ فرم اینویڈیا گذشتہ کچھ عرصے سے امریکا اور چین کے درمیان ہونے والی رسہ کشی سے کافی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے کمپنی پر بیجنگ کو اپنی جدید ترین چپس فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے جولائی میں اینویڈیا پر چین کو چپ فروخت کرنے پر پابندی اٹھا لی تھی تاہم انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کمپنی چین سے ہونے والی اپنی آمدنی کا 15 فیصد امریکی حکومت کو ادا کرے۔
اس کے بعد بیجنگ نے مبینہ طور پر اپنی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ چینی مارکیٹ میں استعمال کے لیے تیار کردہ اینویڈیا کی چپس خریدنا بند کر دیں۔
اینویڈیا کا ایچ 200 چپ اس کے جدید ترین اے آئی سیمی کنڈکٹر بلیک ویل چپ سے ایک درجہ کمتر ہے۔

