کیلے فورنیا:ایلون مسک کی ’اے آئی‘ کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کا چیٹ بوٹ ’گروک‘ لوگوں کے گھر کے پتے بتانے لگا۔۔ شہریوں اور صارفین کا احتجاج۔۔
رپورٹ کے مطابق یہ چیٹ بوٹ بے حد کم پوچھ تاچھ پر بھی عام لوگوں کے گھر کے پتے، رابطے کی تفصیلات اور خاندانی معلومات تک شیئر کر رہا ہے۔ ’فیوچرزم‘ کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ میں انٹیگریٹڈ یہ اے آئی ماڈل کسی بھی پتہ کو تلاش کرنے اور بتانے میں خطرناک حد تک صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے گروک صرف مشہور شخصیات ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کے بھی ذاتی پتے کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک معاملہ میں اس نے ’بارسٹول اسپورٹس‘ کے فاؤنڈر ڈیو پورٹنائے کا درست پتہ بھی فوراً دے دیا۔ اس سے بھی تشویشناک امر یہ ہے کہ گروک یہی سلوک غیر مشہور افراد کے ساتھ بھی کر رہا ہے۔
تحقیقات کے دوران پایا گیا کہ صرف (نام) ایڈریس ٹائپ کرنے پر گروک نے حیران کن نتائج پیش کیے۔ 33 رینڈم (بے ترتیب) ناموں میں سے 10 کے موجودہ گھر کے پتے، 7 کے پرانے پتے اور 4 آفس کے پتے اس نے فوری طور پر فراہم کر دیے۔
کئی بار تو اس نے غلط پہچان ملانے کے باوجود صارفین سے زیادہ درست تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ کچھ چیٹ میں گروک نے صارفین کو 2 آپشن دیے جواب اے اور جواب بی دونوں میں نام، فون نمبر اور 2 گھر کے پتے تک موجود تھے۔ کئی معاملوں میں تو صرف پتہ پوچھنے پر بھی وہ پورا ذاتی ڈوزیئر تیار کر دیتا تھا۔ گروک کا یہ عمل بقیہ اے آئی ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمینی اور کلاؤڈ سے بالکل برعکس ہے، جو فوراً رازداری کے ضوابط کا حوالہ دے کر ایسی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔
ایکس اے آئی کے مطابق گروک میں ’نقصان دہ درخواستوں‘ کو روکنے کے لیے فلٹر موجود ہے۔ لیکن رپورٹ بتاتی ہے کہ ان فلٹرز میں ڈاکسنگ، اسٹالکنگ یا ذاتی معلومات کو شیئر کرنے سے روکنے کی کوئی بات واضح طور پر موجود نہیں ہے۔

