واشنگٹن:اس سال نوبل امن انعام سے محروم رہنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بالآخر امن انعام مل ہی گیا۔ یہ ایوارڈ انہیں بین الاقوامی فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے پیش کیا۔
جمعہ پانچ دسمبر کو واشنگٹن میں اگلے سال ہونے والے فیفا مینز ورلڈ کپ کی قرعہ اندازی کی تقریب منعقد ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو فیفا کے پہلے امن انعام کا فاتح قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ سنہ 2026 میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کریں گے۔فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوارڈ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا انعام ہے، یہ آپ کا امن انعام ہے۔ فیفا کے صدر نے کہا، "انہیں دنیا بھر میں امن اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ان کے غیر معمولی اور شاندار کام کے لیے چنا گیا ہے۔”
فیفا کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر متزلزل عزم اور غیر معمولی اقدامات کے ذریعے لوگوں کو امن کے لیے متحد کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ایک لیڈر یہی چاہیے۔ ایک ایسا لیڈر جو لوگوں کی پرواہ کرتا ہو۔” انفینٹینو نے کئی ممالک کے درمیان امن معاہدوں اور اس میں صدر ٹرمپ کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
ایوارڈ کی تقریب میں ٹرمپ نے اپنے گلے میں سونے کا تمغہ پہنا۔ انہیں ایک گولڈ ٹرافی پیش کی گئی جس پر ان کا نام لکھا تھا، جس میں فیفا ورلڈ کپ کی طرح ہی ہاتھوں میں دنیا کو پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ٹرمپ نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ ‘دنیا اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعی میری زندگی کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک ہے۔” ٹرمپ نے انفینٹینو کی اس کھیل کی قیادت اور سنہ 2026 کے ورلڈ کپ سے قبل عالمی جوش بڑھانے کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ جو نوبل امن انعام کے لیے کھلے عام مہم چلا رہے تھے، اس سال اسے حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ نوبل امن انعام جیتنے کے لیے ٹرمپ نے کئی امن معاہدوں کا دعویٰ بھی کیا، جن میں اسرائیل-فلسطین اور بھارت-پاکستان امن معاہدے شامل ہیں۔

