اسلام آباد: اسلام آباد میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس جاری ہے، جس میں سندھ اور خیبرپختوانخوا نے صوبائی شیئر میں کمی کی مخالفت کی ہے۔ ساتھ ہی خیبر پختونخوا نے ساتویں این ایف سی میں سابق فاٹا کی شمولیت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراء خزانہ اور وزرائے اعلی شریک ہیں، جن میں سندھ کے مراد علی شاہ اور خیبر پختونخوا کے سہیل آفریدی بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جا رہا ہے جس میں صوبوں کے مالیاتی حصے اور آئندہ مالی سال کے حوالے سے اہم فیصلے شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا نے اس موقع پر ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں سابق فاٹا کی شمولیت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کا حصہ موجودہ ایک فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کیا جائے۔ صوبے نے اپنے مجموعی شیئر کو 14.62 فیصد سے بڑھا کر 19.62 فیصد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 161 سے متعلق مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
اس کے علاوہ صوبے نے پیٹرولیم مصنوعات اور گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کے فارمولے میں ترمیم کی سفارش بھی پیش کی اور این ایف سی اجلاسوں کے لیے ماہانہ شیڈول بنانے کا مطالبہ کیا۔
سندھ اور خیبر پختونخوا نے صوبائی شیئر میں کسی بھی کمی کی مخالفت کرتے ہوئے وفاق کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں وفاق اور چاروں صوبوں کو مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ذیلی گروپس کے قیام اور مستقبل کے اجلاس کے شیڈول پر بھی بات چیت کی جائے گی تاکہ مشاورت جلد از جلد مکمل کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ کے مطابق اپنا حصہ لینے کا مطالبہ دہرایا اور کسی بھی کٹوتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں صوبوں نے زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر مشاورت جلد مکمل کی جائے تاکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان مالیاتی معاملات شفاف اور منصفانہ انداز میں طے پائیں۔

