لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ تینوں صوبوں سے غیرقانونی افغان باشندوں کو نکالا جا رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انھیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سیاست بالکل کریں لیکن جہاں قومی سلامتی کی بات آئے وہاں کوئی صوبہ اپنی پالیسی بنا کر نہیں چل سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر آپ کا جو دل کرتا ہے کریں، نا یہ چل سکتا ہے اور نہ اس کی اجازت دیں گے۔انھوں نے کہا کہ معیشیت ترقی کر رہی ہے اور ہم بم دھماکے برداشت نہیں کر سکتے۔تمام آئی جیز کو ہدایات دیں ہیں کہ وہ ڈیٹا اکھٹا کریں۔
محسن نقوی نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ملک کا سوچیں کہ ملک کو کس چیز سے نقصان ہو رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے پر ہر صورت عملدرآمد کرانا ہوگا کیونکہ ہم مزید بم دھماکے برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا چند دن پہلے جن لوگوں نے ایف سی پر حملہ کیا وہ تینوں افغان نکلے، اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والا بھی افغان شہری تھا، ملک میں جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان میں افغان ملوث ہیں۔
انھوں نے کہا ہمیں واضح طور پر پتا ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے کون ہے اور کون یہ کروا رہا ہے، افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کو لگام دے۔
ان کا کہنا تھاملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے، غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ہمیں ہر صورت غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا غیر قانونی افغان مہاجرین سے درخواست ہے کہ وہ خود عزت کے ساتھ اپنے وطن چلے جائیں، اگر کسی کو بھیجا گیا اور وہ واپس آیا تو پھر اسے گرفتار کر کے سزا دی جائے گی، خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کر رہے ہیں۔

