راولپنڈی: راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے نام پر رجسٹرڈ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کر دیے ہیں۔
پیر کے روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اکاؤنٹس فریز کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔
یاد رہے کہ 26 نومبر کے مقدمے میں عدم پیشی پر عدالت نے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کے نام پر رجسٹرڈ اکاؤنٹس فریز کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
سماعت کے دوران شوکت خانم ہسپتال کے وکلا اور پراسیکیوشن کی ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔
پراسیکیوٹر ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جانب سے شوکت خانم ہسپتال یا نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس فریز کرنے کے متعلق کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کا شناختی کارڈ نمبر گورنر سٹیٹ بینک کو بھیجا گیا تھا اور کمرشل بینکوں نے اس شناختی کارڈ نمبر کی بنیاد پر اپنا ڈیٹا سرچ کیا جس میں یہ اکاؤنٹ سامنے آئے اور یہ اکاؤنٹ بھی فریز ہو گئے۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت بتایا ہے کہ انھیں یہ اکاؤنٹس بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تاہم علیمہ خان کے بزنس اکاؤنٹس نہ بحال کیے جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کر دیے ہیں۔
شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ فریز کیے جانے کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ سیز کرنے کے عدالتی احکامات کی غلط تشریح کی گئی اور اس کی بنا پر شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ بھی فریز کر دیے گئے۔
درخواست میں کہا گیا تھا شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ فریز ہونے کے باعث کینسر کے مریضوں کی ادویات پورٹ پر پھنس گئی ہیں اور ادویات نہ ملنے پر مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔

