راولپنڈی میں قانون کی بالادستی کا نیا باب،، سی پی او سید خالد ہمدانی کی قیادت میں پولیس کا دبنگ ماڈل،ایف بی آئی کے لیگل اتاشی کا راولپنڈی پولیس کی صلاحیتوں کا اعتراف
تحریر : اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہےراولپنڈی میں حالیہ برسوں کے دوران پولیس کی کارروائیوں نے امن و امان کی کیفیت کو بنیادی سطح پر تبدیل کیا ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروش نیٹ ورکس، غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور سنگین وارداتوں میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف آپریشنز ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جن کی قیادت سی پی او سید خالد ہمدانی کر رہے ہیں۔شہر میں لینڈ مافیا برسوں سے انتظامی نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج رہا، مگر موجودہ دور میں اس گروہ کے خلاف وہ کارروائیاں کی گئیں جنہوں نے ان کے اثر و رسوخ کو واضح طور پر کمزور کیا۔ دباؤ، ایماندار پولیس افسران سیاسی سفارشات اور طاقتور گروپوں کے اثرات کے باوجود سی پی او خالد ہمدانی نے لینڈ مافیا کے خلاف مہم نہ صرف جاری رکھی بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عملی اقدامات کیے۔ شہری علاقوں میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں نے انتظامی شفافیت اور قانون کی بالادستی کو نمایاں طور پر مضبوط کیا، جس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف اسی تسلسل میں کارروائیوں کے دوران 310 سے زائد بڑے گینگز کو توڑا گیا۔ متعدد مقابلوں میں کئی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا مگر پولیس نے کسی مرحلے پر دباؤ قبول نہیں کیا۔ جرائم میں ریکارڈ کمی خصوصاً کار اور موٹر سائیکل چھیننے، سرقہ بالجبر اور ڈکیتی کے واقعات میں نمایاں کمی—اس مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ برس کی نسبت موجودہ سال میں جرائم کی شرح میں مزید کمی ریکارڈ ہونا پولیس کی مؤثر نگرانی کا سیدھا ثبوت ہے۔ منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بھی اسی ماڈل کی ایک مضبوط کڑی ہیں۔ بڑے سپلائرز کی گرفتاری، بھاری مقدار میں ہیروئن آئس و دیگر اقسام کی برآمدگی، اور لیڈی سپلائرز سمیت درجنوں افراد کو عدالتوں سے سزائیں دلوانا اس بات کی عملی تصویر ہے کہ پولیس نے گرفتاری سے آگے بڑھ کر قانونی عمل کو بھی مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ڈرگ فری پنجاب وژن کے تحت یہ مہم مسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں راولپنڈی پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان باشندوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ شناختی دستاویزات کے بغیر مقیم متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو ان کے ملک واپس بھجوایا گیا۔ شہر میں غیر قانونی قیام کے خاتمے کیلئے مزید آپریشنز بھی جاری ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پولیس کی کارکردگی کا اعتراف اس ادارے کیلئے ایک مضبوط حوالہ بن چکا ہے۔ امریکی سفارتخانے کے لیگل اتاشی کی جانب سے وجیہہ سواتی کیس میں بہترین تفتیش اور سزایابی پر تعریفی اسناد کا اجراء اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کے آپریشنل اور تفتیشی معیارات عالمی سطح سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ فورس کے اندر شہداء اور غازیوں کیلئے ویلفیئر پراجیکٹس کی شمولیت بھی نمایاں ہے۔ یہ اقدامات اس اصول کی نمائندگی کرتے ہیں کہ پولیس اپنے اہلکاروں کی قربانیوں کو ادارہ جاتی سطح پر محفوظ رکھتی ہے۔ اسی طرح کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرامز، تربیتی کورسز اور نوجوانوں کیلئے انٹرن شپ بیجز نے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا نیا رشتہ قائم کیا۔ مجموعی طور پر راولپنڈی پولیس کی موجودہ پالیسی ایک ایسے انتظامی ماڈل کی تصویر ہے جو سختی، شفاف کارروائی، قانونی عمل کی پابندی اور کمیونٹی شمولیت کے امتزاج سے شہر کو ایک محفوظ اور بہتر سمت دے رہا ہے۔ جرائم میں واضح کمی، لینڈ مافیا کی کمر ٹوٹنا، منشیات فروش نیٹ ورکس کا خاتمہ، غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی، اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اعتراف—یہ سب مل کر ثابت کرتے ہیں کہ شہر اب ایک زیادہ مضبوط اور منظم سیکیورٹی فریم ورک کے تحت کھڑا ہے۔