لاہور:(بے نقاب رپورٹ)شیخوپورہ کے علاقے مریدکے میں ایک ایسا معجزہ پیش آیا ہے جو نہ مقامی لوگ پہلے کبھی دیکھ پائے، نہ پولیس کی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ڈاکوؤں نے ڈی آئی جی آغا یوسف کے بھتیجے منیب سے موبائل چھین لیا… اور بس پھر کیا تھا! پولیس کی نیندیں، جوتے، وائرلیس سب ایک ساتھ جاگ اٹھے۔ پوری فورس ایسے حرکت میں آئی جیسے کسی نے "VIP Alert” کا بٹن دبا دیا ہو۔
پولیس کی پھرتیاں دیکھ کر علاقے کے لوگ حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی… مگر اصل حیرت اس بات پر نہیں تھی کہ ڈاکو پکڑے گئے، بلکہ اس پر تھی کہ پولیس واقعی حرکت میں آ بھی سکتی ہے۔ وجہ یہ بنی کہ ڈی آئی جی آغا یوسف کے والد 10 روز قبل رضائے الہی سے انتقال کر گئے تھے اور وہ مریدکے گھر موجود تھے اسی وجہ سے مقامی افراد نے کان پکڑ کر کہا ہم نے تو صرف اتنا سنا تھا کہ پولیس ڈاکوؤں کی سہولت کار ہوتی ہے، یہ تو پہلی دفعہ دیکھا کہ پولیس ڈاکوؤں سے مال بھی واپس کروا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مریدکے کے ایک مشہور ایڈووکیٹ قاسم اور ایک پولیس انسپکٹر کے ڈیرے ساتھ ساتھ ہیں، اور واردات کے بعد موبائل کی لوکیشن بھی انہی ڈیروں کے آس پاس گھومتی رہی۔
مزید کمال یہ ہوا کہ پولیس کے دباؤ پر ایڈووکیٹ قاسم کے بھائی خاتم کو فوراً پیش کر دیا گیا، مقامی مخبروں کے مطابق انسپکٹر صاحب نے ڈاکوؤں کے سہولت کار کو خصوصی پیغام بھجوایا
بیٹا! فلاں پٹرول پمپ پر موبائل چھوڑ دینا، ہمارا بندہ آ کر لے جائے گا۔”
جب بندہ وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ موبائل واپس کرنے والا شخص سمور ہے جو عام آدمی نہیں بلکہ انسپکٹر صاحب کا پُرانا واقف کار، اور مبینہ طور پر کئی ڈاکوں کا سہولت کار ہے ۔عوام کہتے ہیں کہ اگر یہی واردات کسی عام شہری کے ساتھ ہوتی تو موبائل کی لوکیشن نامعلوم مقام بتاتی، اور پولیس کی لوکیشن "گھر پر آرام۔ لیکن چونکہ بات ڈی آئی جی کے بھتیجے کی تھی، اس لیے پورا سسٹم "ٹربو موڈ” میں چل پڑا۔
سی سی ٹی ڈی کی سپیشل ٹیم اگر سمور، انسپکٹر صاحب اور ایڈووکیٹ کے تعلقات کی جانچ کرے تو ایسے ایسے ’’راز‘‘ سامنے آئیں گے کہ مریدکے کے ڈاکو بھی حیران ہو جائیں گے کہ اصل بادشاہ تو وہ نہیں ۔کچھ اور لوگ ہیں۔
ڈی آئی جی کے بھتیجے سے ڈکیتی، موبائل برآمد، انسپکٹر کا کمال، مصالحت کی کوششیں

