Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      25سال کے طویل انتظار کے بعد ہنڈا ’پریلوڈ‘ کی شاندار واپسی: دلکش لُک، 44 ایم پی جی زبردست مائیلیج اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کا جادو!

      آئی پیڈ صارفین کے لیے خوشخبری، واٹس ایپ میں چار نئے فیچرز متعارف

      کیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹ کلاس رومز میں انسانی استاد کی جگہ لے سکتے ہیں؟نیویارک کے ہائی سکول میں پہلی ”ہیومینائڈ“ ٹیچر تعینات

      ایچ 1 بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا معاملہ: ٹرمپ حکومت عدالت میں ناکام، فیصلہ برقرار

       دماغ سےروبوٹ چلانے والی نئی ٹیکنالوجی متعارف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایس ایس پی محمد نوید کا کھلا انصاف،، شہری پہلی بار خود فیصلوں کے گواہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    یہ لاہور کی وہ تصویر ہے جو کبھی صرف مثالی کہانیوں میں ملتی تھی، جہاں پولیس اسٹیشنوں کے در و دیوار پر لٹکی ہدایات ہوا میں لہراتی تو تھیں مگر ان کا مقصد شاید صرف دیواریں بھرنا ہوتا۔ فائلیں دھول میں اٹی ہوئی، سائلین کی آہیں دبتی ہوئی، اور انصاف کسی ایسے خواب کی طرح جس کی تعبیر برسوں بعد بھی نہ مل سکے۔ مگر اب جیسے شہر کی فضا نے نیا رخ لے لیا ہو۔ انویسٹی گیشن پولیس میں ایک ایسی تازگی محسوس ہو رہی ہے جیسے کوئی بند کمرہ یکایک روشن ہو جائے، دھوپ اندر آ کر فرش پر چمکنے لگے اور زنگ آلود امیدوں پر نیا رنگ چڑھ جائے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید نے صرف اپنا دفتر وسیع نہیں کروایا، ایک سوچ وسیع کی ہے۔ اُن کے دفتر کی کھلی جگہیں محض اینٹوں کا اضافہ نہیں۔ یہ وہ علامت ہے جس نے برسوں کے ستائے سائلین کو پہلی بار یہ احساس دلایا ہے کہ انصاف کسی بند دروازے کے پیچھے نہیں بلکہ ان کے سامنے بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔ پہلے جس چھوٹے سے کمرے میں ایک ہی شخص کی دبی دبی آواز بمشکل سنی جاتی تھی، آج اسی جگہ پر درجنوں شہری ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ ان کی فائلیں دفتری درازوں میں گم ہونے کے بجائے فیصلوں میں ڈھل رہی ہیں۔

    https://benaqabtv.com/wp-content/uploads/2025/11/ssp-nacvid.mp4

    تبدیلیٔ تفتیش بورڈ کی حالیہ کارروائی نے اس نئے دور کی بنیاد کو اور مضبوط کر دیا ہے۔ قتل، دھوکہ دہی، چیک ڈس آنر، امانت میں خیانت اور چوری جیسے 34 مقدمات ایک ہی نشست میں زیر بحث آئے—یہ معمول کی بات نہیں۔ برسوں سے انصاف کے صحرا میں بھٹکنے والے مدعی جب ایک ہی دن میں سنے جاتے ہیں، تو وہ صرف مقدمات نہیں ہوتے، وہ انسانی زندگیاں ہوتی ہیں جن کے کندھوں سے بوجھ اُترتا محسوس ہوتا ہے۔ ارشد عباس کی آنکھوں میں شاید پہلی بار روشنی لوٹی، شہناز کوثر کی تھکی ہوئی آواز میں زندگی کی جھلک آئی، محمد اکرم کے لہجے سے خوف کی گرفت کم ہوئی اور محمد ناصر نے ایسا محسوس کیا کہ اس کا انتظار بے مقصد نہیں تھا۔ مگر انصاف کا سفر صرف سننے پر ختم نہیں ہوتا—اصل لڑائی احتساب کی ہوتی ہے۔ پولیس محکمے کی وہ کالی بھیڑیں جو شہری کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں، اب ان کے گرد دائرہ تنگ ہونے لگا ہے۔ 41 شوکاز نوٹسز کی ایک ہی دن میں سماعت، چار اہلکاروں کی برطرفی، کئی کی تنزلیاں، سروس ضبطگیاں، اور پورے سال کے 1132 شوکاز، یہ محض ایک لسٹ نہیں، یہ وہ ارتعاش ہے جس نے پولیس کے اندر موجود جمود کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ برسوں سے دیمک کی طرح ادارے کو چاٹنے والی خامیاں اب کٹنے لگ گئی ہیں، اور اس کٹائی کا اثر پورے محکمے میں محسوس ہو رہا ہے۔

    https://benaqabtv.com/wp-content/uploads/2025/11/navid-1.mp4

    یہ تبدیلی صرف پولیس لائنز کی حد تک محدود نہیں۔ شہر کے چوراہوں، گلیوں، تھانوں اور عدالتوں میں گفتگو بدل رہی ہے۔ چائے کے ہوٹلوں پر سرگوشیوں کا انداز مختلف ہے۔ لوگ حیرت سے کہتے ہیں، لگتا ہے اب واقعی کچھ ہونے لگا ہے۔یہ جملہ، جو کبھی طنز سمجھا جاتا تھا، آج امید کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایس ایس پی محمد نوید کا یہ اعلان کہ میرے دفتر کے دروازے ہر شہری کے لیے کھلے ہیں۔ اب کوئی رسمی اعلان نہیں لگتا۔ یہ دروازے واقعی کھل رہے ہیں، اور ہر دستک اب فیصلہ بن رہی ہے، دھول بھری فائل نہیں۔
    انصاف کا راستہ کبھی ہموار نہیں رہا۔ یہ پیچ در پیچ راستہ ہے، جس میں کبھی موڑ حیران کرتے ہیں اور کبھی گلیاں مایوس۔ مگر جب اسی راستے پر کھڑے محافظ بیدار ہوں، جب تفتیش کتابی نہیں بلکہ عملی انصاف کا نمونہ بن جائے، اور جب شہری کی دہائی کو محض ایک کاغذ نہ سمجھا جائے۔ تب ناممکن کے راستے بھی قدموں تلے آ جاتے ہیں۔ لاہور کی انویسٹی گیشن پولیس آج اسی مقام پر کھڑی ہے۔ جہاں امید صرف نعرہ نہیں، ایک عمل ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو ممکن ہے آنے والا دور پولیس کو خوف یا بداعتمادی کی علامت کے بجائے اعتماد اور انصاف کی مثال بنا دے۔ اور یہ وہ لمحہ ہو گا جب لاہور کے لوگ کہیں گے۔ کبھی ایک وقت تھا جب پولیس نے واقعی اپنے شہریوں کو اپنا سمجھا تھا اور ہم نے بھی انہیں اپنا مان لیا تھا۔

    Related Posts

    چکوال:گہرے تالاب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان پانی میں ڈوب گئے

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی 71ویں سالگرہ: پیپلز سیکریٹریٹ نواب شاہ میں تقریب، کیک کاٹا گیا

    کویت نے پاکستان سے دفاعی تعاون معاہدے کی منظوری دیدی

    مقبول خبریں

    پہلا ٹیسٹ ،ویسٹ انڈیزٹیم پہلی اننگزمیں 311رنزبناکرآئوٹ، محمدعلی کی چاروکٹیں

    چکوال:گہرے تالاب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان پانی میں ڈوب گئے

    سیاست آلودہ ہو چکی 2028،کا اسمبلی انتخاب نہیں لڑوں گا  : سدارامیا کا بڑا اعلان

    نندن نیلیکانی کی قیادت میں امتحانی اصلاحات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس دی جائے گی تشکیل، مودی

    دھرمیندر پردھان کااستعفیٰ  نوجوانوں کی جدوجہد کی کامیابی مودی  معافی مانگیں: پون کھیڑا

    بلاگ

    کاز ویز نہیں، پل چاہیے تھے! دلجبہ سیکٹر کے عوام آخر کب تک یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟

    ”وہ باپ جو اپنے بچوں سے نہیں، مہنگائی سے ہار گیا“

    سرائے سدھو میں منشیات فروشوں کا راج

    شدید بارشیں ،سیلاب کا امکان اوراحتیاطی تدابیر

      پولٹری فارمنگ کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.