اسلام آباد:ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت اہم آئینی و قانونی عدالتی اداروں سپریم جوڈیشل کونسل (SJC)، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی ۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے اعلامیہ کے مطابق یہ عمل ترمیم شدہ آئینی ڈھانچے، شفافیت اور ادارہ جاتی تسلسل کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا گیا۔ترمیم کے بعد نامزدگیاں کی گئی ہیں جن کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جمال خان مندوخیل کو آئین کے آرٹیکل 175A کی شق 2 (iiia) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت )آف پاکستان کی مشترکہ نامزدگی سے سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت ) کے سینئر ترین جج جسٹس عامر فاروق کو آئین کے آرٹیکل 209 کی شق 2(d) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ(وفاقی آئینی عدالت ) نے مشترکہ طور پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کی دفعہ 2 کے تحت کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ نئی تشکیل پر یہ ادارے آئینی ترمیم کے بعد احتساب، عدالتی تقرریوں اور عدالتی طریقہ کار کی نگرانی جیسے کلیدی امور میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

