اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: اسد مرزا) جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر علاقائی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق بھارت نے حالیہ ہفتوں میں اپنی سرحدی دفاعی سرگرمیوں اور عسکری نقل و حرکت میں اضافہ کیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات امریکا اور اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ممکنہ سیکیورٹی خدشات سے نمٹنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے افغانستان کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ وہاں موجود فورسز کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کسی ملک کی جانب سے تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری غیر یقینی سیکیورٹی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان سمیت تمام ممالک اپنی دفاعی حکمتِ عملیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے بھی سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور دفاعی تیاریوں کا جامع جائزہ مکمل کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور متعلقہ اداروں کے اجلاسوں میں “ریجنل سیکیورٹی آپریشن پلان” پر غور کیا گیا ہے، جس میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال کے علاوہ داخلی سلامتی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا پاکستان نے حالیہ دنوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید منظم کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
اسی طرح بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف آپریشنز بھی تیز کر دیے گئے ہیں، جن میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں شامل ہیں۔
عالمی اور علاقائی مبصرین کے مطابق اگر خطے میں موجود کشیدگی کو کم نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیا کا امن ایک بار پھر متاثر ہو سکتا ہے۔ چین، ایران اور روس سمیت کئی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام فریقین کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ایک سینئر دفاعی تجزیہ کار نے بے نقاب ٹی وی سے گفتگو میں کہا۔ پاکستان کا دفاع مضبوط اور ذمہ دارانہ اصولوں پر استوار ہے۔ کسی بھی ملک کی جانب سے مہم جوئی کی صورت میں پاکستان ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنوبی ایشیا کو استحکام کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے واضح مؤقف اپنایا ہے کہ امن و استحکام ہی ترجیح ہے، تاہم قومی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

