نیویار ۔5نومبر (اے پی پی):ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتہائی بااثر شخصیت ایلون مسک کی کھلے عام مخالفت کے باوجود نیو یارک کا پہلا مسلمان میئر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی۔ العربیہ کے مطابق34 سالہ ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اورامریکی حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلوا سے تھا ۔
یہ الیکشن کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوا کیونکہ 2001 کے بعد پہلی بار نیویارک کے میئر انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا۔ تقریباً 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے پولنگ سٹیشنز پر جا کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی والدہ فلم ساز میرا نائر آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہو چکی ہیں جبکہ والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، ان کی اہلیہ رما دواجی شامی ایک معروف آرٹسٹ ہیں۔
ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے مسائل کو اجاگر کیا ، ان کا ایجنڈا سستی رہائش، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، یونیورسل چائلڈ کیئر اور متوسط طبقے کے لیے سہولتوں کے فروغ پر مبنی تھا۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کریں گے، شہر میں ٹرانسپورٹ مفت ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ عوامی رابطہ مہم کے دوران وہ نیویارک کے شہریوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی کھلی اور دوٹوک آواز کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ ان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق نیو یارک سٹی کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کئی حوالوں سے قابل ذکر ہیں۔ وہ 1892 کے بعدیعنی سو سال سے بھی زیادہ عرصہ میں نیویارک شہر کے میئر بننے والے سب سے کم عمر شخص ہوں گے، اس کے علاوہ وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے ساتھ ساتھ اس شہر کے پہلے افریقی نژاد میئر ہوں گے۔زہران ممدانی کے نیویارک شہر کے میئر منتخب ہونے کی خبر کے بعد سابق امریکی صدر باراک اوباما نے جیتنے والے تمام ڈیموکریٹک امیدواروں کو مبارکباد دی ۔اوباما نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ظہران ممدانی کی کامیابی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مضبوط مستقبل کی جانب دیکھنے والے رہنماؤں کے ارد گرد اکٹھے ہوتے ہیں جو لوگوں کے مسائل کا خیال رکھتے ہیں، تو ہم جیت سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی بھی کافی کام کرنا ہے لیکن اب مستقبل تھوڑا سا روشن نظر آ رہا ہے۔
سابق گورنر اینڈریو کوومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ظہران ممدانی کو انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد دی ۔ظہران ممدانی اس قسم کی سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی پارٹی میں موجود بائیں بازو کے بہت سے لوگ برسوں سے منتظر تھے،وہ نوجوان اور کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں، وہ اپنی نسل کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کو مختلف نسلوں میں حاصل حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی سیاسی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹے اور بڑے فخر کے ساتھ اپنے بائیں بازو کے خیالات کا دفاع کرتے ہیں۔
انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ان بنیادی معاشی مسائل پر توجہ مرکوز کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان محنت کش طبقے کے ووٹرز کی ترجیح رہی ہے جو حال ہی میں ڈیموکریٹک پارٹی سے دور ہو رہے تھے۔نیو یارک کےسابق گورنر کوومو جو خود ایک گورنر کے بیٹے ہیں کو شکست دے کر ظہران ممدانی نے ڈیموکریٹک سٹیبلشمنٹ کو شکست دی ہے جس کے بارے میں بائیں بازو کے بہت سے افراد کا خیال ہے کہ وہ اپنی پارٹی اور لوگوں سے دور ہو چکے ہیں۔

