ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں تعلیمی اخراجات اور وظائف (SU) میں مجوزہ حکومتی کٹوتیوں کے خلاف ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ تک احتجاجی مارچ کیا، جبکہ ملک بھر کے 57 تعلیمی اداروں میں 40 ہزار سے زائد طلبہ نے ہڑتال کی۔
ڈینش حکومت کی نئی پالیسی کے تحت 7 لاکھ ڈینش کرونر سے زیادہ سالانہ آمدن والے والدین کے بچوں کے وظائف ختم کرنے کی تجاویز ہیں، جس سے ڈنمارک کی وزارت برائے اعلیٰ تعلیم کے مطابق 14 ہزار طلبہ مکمل محروم اور 8 ہزار کے وظائف کم ہو جائیں گے۔ طلبہ تنظیموں نے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے تعلیم کا بجٹ کم کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈنمارک میں 1970 سے نافذ العمل اس تعلیمی نظام کے خلاف یہ مظاہرے یورپ میں پھیلتی اس طلبہ تحریک کا حصہ ہیں جو اس سے قبل فرانس، اٹلی اور جرمنی میں مہنگائی اور رہائشی اخراجات کے خلاف شروع ہو چکی ہے۔

