لاہور: وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے سربراہ معاون خصوصی شعیب مرزا نے ہر ضلع سے متعلق کے پی آئی رپورٹ پیش کی، جس پر مری، گوجرانوالہ، اٹک، بہاولپور، چکوال، جہلم، لیہ اور ساہیوال کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے بعض اضلاع میں بیوٹیفکیشن پلان کی تکمیل اور معیار میں تساہل برتنے پر اظہار برہمی کیا، جبکہ فصلوں کی باقیات جلانے پر 100 فیصد کنٹرول کا حکم دیا اور اوکاڑہ سمیت دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو واقعات پر کنٹرول نہ کرنے پر وارننگ جاری کی۔
وزیر اعلیٰ نے بیوٹیفکیشن سکیموں میں پائیداری اور معیار پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا اور ہر بیوٹیفکیشن سکیم میں فواروں سمیت دیگر واٹر فیچرز شامل کرنے کی ہدایت کی۔ گورننس اور روڈ مینٹی ننس کے لیے خصوصی سکواڈ قائم کرنے کا حکم دیا گیا، جو 12 گھنٹے انسپکشن اور مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔
سٹریٹ لائٹس 100 فیصد فنکشنل اور مین ہول 100 فیصد کرنے، زیبرا کراسنگ اور سکول سیفٹی کے لیے ضروری اقدامات کرنے، اسسٹنٹ کمشنرز کو واٹر فلٹریشن پلانٹ ٹھیک کروانے، جنرل بس ٹرمینلز اور گرین بس شیڈز کی تعمیر و مرمت اور صفائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہسپتالوں کی صورتحال میں بہتری کے لیے3دن کی مہلت دی گئی اور ڈپٹی کمشنرز و اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ ہسپتالوں کے دوروں کی ہدایت کی گئی۔
اوپن پلاٹ پر کوڑا کرکٹ ڈالنے پر مالکان کو وارننگ، بھاری جرمانہ اور تیسرے مرحلے میں ایف آئی آر کی ہدایت کی گئی، جبکہ پنجاب کو انکروچمنٹ فری بنانے کا حکم دے کر تجاوزات کے لیے مشترکہ آپریشن کی ہدایت کی گئی۔ وال چاکنگ، کٹے پھٹے بینر اور چھوٹے اشتہارات بھی دیواروں سے اتارنے، ہسپتالوں کی ڈیپ کلیننگ اور روڈ واشنگ روزانہ کرانے اور صوبہ بھر میں آوارہ کتوں پر قابو پانے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لین مارکنگ، عمارتوں پر پینٹ اور صاف ستھری سڑک دیکھ کر اچھے شہر کا تاثر ابھرتا ہے، ڈپٹی کمشنرز اور انتظامیہ کی لاپرواہی سے میری ساکھ پر حرف آتا ہے، ڈپٹی کمشنرز یونیورسٹی اور کالجز میں جا کر طلبہ کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹس اور سکیموں کے بارے میں بتائیں اور ہر ڈی سی اپنے ضلع کی معاشی ترقی کے لیے ڈسٹرکٹ اکنامک پلان تیار کرے۔
اجلاس میں خانیوال، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، ننکانہ صاحب، راولپنڈی، گجرات اور رحیم یار خان کے بیوٹیفکیشن پراجیکٹس کا جائزہ بھی لیا گیا جبکہ پرائس کنٹرول، روڈ اینڈ سٹریٹ سیفٹی، عوامی سہولیات، ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ، ریگولیشن اینڈ انفورسمنٹ، اربن آرڈر، کلین اینڈ گرین پنجاب، عوامی مقامات اور سٹیزن سروسز پر بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

