گجرات / لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بلاجواز اور جھوٹے الزامات عائد کرے تو کیا اسے عاجزی سمجھا جائے اور اگر کوئی اس کا شفاف جواب دے تو اسے تکبر کا نام دے دیا جائے۔ چوہدری سالک حسین کے عاجزی اختیار کرنے کے مشورے پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ الزام تراشی کا جواب دینا کسی طور پر تکبر نہیں ہو سکتا۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ صوبے میں انتظامی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حقائق کے برعکس تنقید کرنے والوں کو ہمیشہ مستند اور دو ٹوک جواب دیا جائے گا۔
ضلع گجرات میں اعلیٰ انتظامی نشستوں پر تقرر و تبادلوں کے معاملے پر حکومتِ پنجاب اور اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے اہم رہنما و وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے مابین شدید سیاسی و انتظامی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) گجرات خرم شہزاد کی حالیہ تعیناتی اس تازہ ترین کشیدگی کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گجرات کی بااختیار نشستوں پر اختیارات کی جنگ نے صوبائی حکومت اور چوہدری برادران کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ اس سے قبل ضلع میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی تعیناتی پر بھی صوبائی انتظامیہ اور چوہدری سالک حسین کے درمیان شدید تحفظات کا تبادلہ ہو چکا ہے، جس کے بعد اب ڈپٹی کمشنر کے معاملے نے اس تنازع کو مزید طول دے دیا ہے۔
سیاسی و خاندانی پس منظر کے لحاظ سے یہ معاملہ انتہائی اہم صورتِ حال اختیار کر گیا ہے، کیونکہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور سابق نگران وزیراعلیٰ و موجودہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی آپس میں قریبی عزیز ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گجرات پر اپنے روایتی سیاسی اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول کو قائم رکھنے کی کوششوں نے پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ق) کی مرکزی قیادت کو ایک بار پھر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ انتظامی تقرریاں صوبائی اور وفاقی حلیفوں کے درمیان ایک نئے سیاسی بحران کی نشاندہی کر رہی ہیں۔بعد ازاں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب نے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کو صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھجوایا دیا۔
منگل کو بھجوائے گئے اس نوٹس میں صرف وفاقی وزیر کو ہی مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ نجی ٹی وی کے صحافی نعیم اشرف بٹ اور چینل کے چیئرمین محمد اقبال کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں چودھری سالک حسین کے دو نومبر کو نشر ہونے والے انٹرویو کے ان بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں انہوں نے پنجاب میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
نوٹس میں خاص طور پر ان کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ان کے پاس کرپشن کے حوالے سے کوئی براہِ راست ثبوت تو نہیں لیکن وہ روزانہ پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں سنتے ہیں اور اب کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر چکی ہیں۔
مریم نواز کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں ان بیانات کو غیر مصدقہ، بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیا گیا ہے۔
’’ بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی’’ جھوٹے الزامات عاجزی اور شفاف جواب تکبر???وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے سوال

