بیجنگ/واشنگٹن:
مصنوعی ذہانت (AI) کے عالمی بازار میں امریکی مدمقابل کمپنیوں کو سخت مقابلہ دینے کے لیے معروف چینی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی "ڈیپ سیک” (DeepSeek) نے اپنا نیا جدید اوپن سورس ریسرچ پروٹوٹائپ "سپر ایجنٹ” (Super Agent) باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔اس جدید ترین ٹول کا بنیادی مقصد سافٹ ویئر کی تیاری (Software Development) اور کوڈنگ کے عمل کو انتہائی تیز، خودکار اور زیادہ مربوط بنانا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق، یہ ٹول اے آئی انڈسٹری میں روایتی ری ایکٹیو (حکّم کے منتظر) سسٹمز کے بجائے ایک فعال (Proactive) اور خودکار نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔روایتی اے آئی سسٹمز کے برعکس جو صرف واضح کمانڈ ملنے پر کام کرتے ہیں، یہ سپر ایجنٹ ڈویلپرز کی ٹیم کی گفتگو اور کام کے دوران مسائل کا خود جائزہ لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بغیر کہے موثر حل فراہم کرتا ہے۔ یہ ٹول چیٹ پلیٹ فارمز (IM chats) اور (GitHub) کے کمنٹس کے ساتھ براہ راست مربوط رہتا ہے، جس سے پراجیکٹ کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور بار بار سیاق و سباق (Context) سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ ایک ہی وقت میں کئی پیچیدہ کام بیک وقت اور انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیپ سیک نے اس پروٹوٹائپ کو اوپن سورس کے طور پر پیش کیا ہے، تاکہ عالمی سطح پر سافٹ ویئر ڈویلپرز اور کمپنیاں اسے اپنے ورک فلو کے مطابق ڈھال سکیں اور اس میں بہتری لانے کے لیے اپنا حصہ ڈال سکیں۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کا یہ قدم امریکی ٹیکجائنٹس کے لیے ایک مضبوط چیلنج ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کو مزید تیز کر رہا ہے۔

