تحریر :محمد اشفاق پسرور
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟ سیالکوٹ اسٹیڈیم میں خوشیوں کی تقریب صفِ ماتم میں تبدیل، ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات نے کئی سوالات کھڑے کر دیے!
سیالکوٹ اسٹیڈیم میں مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب کے دوران پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ ہمارے معاشرے میں تقریبات کے نام پر ہونے والی غیر ذمہ داری، نمود و نمائش اور انتظامی غفلت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آخر یہ کیسی خوشی تھی جس کے نام پر لوگوں کو مختلف ترغیبات اور لالچ دے کر اسٹیڈیم میں جمع کیا گیا؟ کیا منتظمین کو اندازہ نہیں تھا کہ جب سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے گا تو ان کی حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات بھی کرنا ہوں گے؟ لوگوں کو بلانا، انہیں بڑے بڑے دعوے دکھانا، شہرت اور تفریح کے نام پر ہجوم اکٹھا کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن جب یہی ہجوم بے قابو ہو جائے اور انسانی جانیں خطرے میں پڑ جائیں تو ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
کیا اس تقریب کے منتظمین نے لوگوں کی آمد و رفت، داخلی اور خارجی راستوں، سکیورٹی، ہنگامی صورتحال اور طبی سہولیات کے بارے میں کوئی مناسب منصوبہ بندی کی تھی؟ اگر انتظامات مکمل تھے تو پھر ایسا افسوس ناک واقعہ کیسے پیش آیا؟ اور اگر انتظامات نہیں تھے تو اتنے بڑے اجتماع کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا کی شہرت، ویوز، فالوورز اور ذاتی تشہیر کی دوڑ میں بعض اوقات انسانی جانوں کی اہمیت ہی بھلا دی جاتی ہے۔ کوئی شادی کو یادگار بنانے کے چکر میں ہوتا ہے، کوئی ویڈیو وائرل کرنے کے لیے بے تاب ہوتا ہے اور کوئی اپنے نام کی تشہیر چاہتا ہے، لیکن اس سارے کھیل میں عام آدمی کی زندگی اور حفاظت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے خوشی میں شریک ہونے کے لیے نکلتے ہیں، اپنے بچوں اور خاندانوں کے ساتھ تقریبات میں جاتے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ جس خوشی میں وہ شریک ہونے جا رہے ہیں وہاں انتظامات کی کمی ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، ہلاکتوں اور زخمیوں کی مصدقہ تعداد سامنے لائی جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مالی و اخلاقی مدد کی جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس تقریب کی اجازت کس نے دی، انتظامات کس کی ذمہ داری تھے اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ یہ معاملہ کسی ایک شخص کی شادی یا ذاتی خوشی کا نہیں بلکہ عوامی تحفظ اور انسانی جانوں کے احترام کا ہے۔ شادی کی خوشیاں منانے پر کسی کو اعتراض نہیں، لیکن اپنی خوشیوں کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔ خدارا شہرت اور پیسے کی دوڑ میں انسانیت کو مت بھولیے، کیونکہ شادی کے چراغ دوبارہ جل سکتے ہیں، تقریبات دوبارہ سج سکتی ہیں، لیکن جس گھر سے جنازہ اٹھتا ہے وہاں خوشیاں واپس آنے میں عمر گزر جاتی ہے۔ آخر میں سوال صرف اتنا ہے: اسٹیڈیم میں لوگوں کو جمع کرنے والے ذمہ داران کیا اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں گے یا ہمیشہ کی طرح چند بیانات دے کر معاملہ ختم کر دیا جائے



