اسلام آباد:
ایران کے ساتھ سرحدی تجارت بحال ہونے اور پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے جہاز لنگر انداز ہونے کے بعد ملک بھر میں گیس کی قلت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اور ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید کمی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایران بارڈر اور پورٹ قاسم سے ترسیلات کا آغازایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق، پاک ایران سرحد (گبد ریمدان) پر کچھ روز سے رکے ہوئے ایل پی جی سے لدے سینکڑوں باؤزرز کو پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ پورٹ قاسم پر بھی ایل پی جی کے درآمدی جہاز پہنچ چکے ہیں، جس سے مقامی مارکیٹ میں گیس کی رسد بہتر ہونے لگ گئی ہے۔بحرانی صورتحال اور قیمتوں میں اضافے کا پس منظر واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران سے سپلائی میں تعطل اور مقامی ریفائنریوں کی محدود پیداوار کے باعث ملک میں ایل پی جی کا شدید بحران پیدا ہو گیا تھا۔ قلت کے اس دور میں اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں کے برعکس مختلف شہروں میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی تھی اور گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں بھی پچھلے دنوں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا تھا۔قیمتوں میں کتنی کمی متوقع ہے؟ کاروباری حلقوں اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ایران اور بحری راستوں سے سپلائی کی مسلسل آمد جاری رہنے سے مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ کم ہوگا۔ سردیوں کی آمد سے قبل گیس کی بہتر دستیابی اور درآمدات کے تسلسل سے صارفین کو فی کلو قیمت میں نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

