پاکپتن (بیورو رپورٹ – بے نقاب نیوز):
پاکپتن شہر میں سرکاری آٹے کی محدود دکانوں پر دستیابی نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سستے آٹے کے حصول کے لیے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب چکی کے آٹے کی قیمت بھی 6 ہزار روپے کی حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے عام آدمی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا سستا آٹا اگر مخصوص دکانوں تک محدود رہے گا تو عام شہری اس سہولت سے کیسے مستفید ہو سکے گا؟شہریوں نے ڈپٹی کمشنر آصف رضا سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری آٹے کی فراہمی شہر کی تمام دکانوں پر یقینی بنائی جائے، تاکہ ہر شہری باآسانی سستا آٹا خرید سکے اور کسی کو بھی اس بنیادی ضرورت کے حصول میں دشواری کا سامنا نہ کرناپڑے.دوسری جانب چکی کے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث یہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور سرکاری آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بچے ہوں یا بزرگ، آٹا ہر فرد کی بنیادی خوراک ہے؛ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت شہریوں کی ان مشکلات کے ازالے کے لیے کب عملی اقدامات کرتی ہے؟

