اسلام آباد نے بیجنگ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے تائیوانی پروازوں پر پابندی عائد کر دی، جس سے تائیوان کی بڑی ائیر لائنز کے روٹس تبدیل ہو گئے۔اسلام آباد:پاکستان نے "ون چائنا پالیسی” (One China Policy) کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تائیوان کی ائیر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اقدام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے تائیوانی پروازوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایوی ایشن ڈویژن "ون چائنا پالیسی” پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت صرف مین لینڈ چین کی ائیر لائنز کو دی گئی ہے، اور تائیوان کے لیے فضائی حدود بند رکھی جائیں گی۔فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس فیصلے کے نفاذ کے بعد تائیوان کی دو بڑی ائیر لائنز کی ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والی پروازوں کے روٹس تبدیل کر دیے گئے ہیں، جس سے طویل فاصلے کے ان سفری راستوں پر وقت اور لاگت میں اضافہ ہو گیا ۔سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ قدم بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان تاریخی، دفاعی اور آہنی تعلقات (Iron-clad Friendship) کی ایک اور واضح مثال ہے۔ واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ایک الگ ہونے والا صوبہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد ریاست کہتا ہے، تاہم پاکستان قیامِ چین کے بعد سے ہمیشہ ‘ون چائنا’ کا پرزور حامی رہا ہے۔
ون چائنا پالیسی کی حمایت: پاکستان کا تائیوان کی ائیر لائنز کیلئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان

