واشنگٹن / تہران : مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران ایک انتہائی ہولناک اور فیصل کن موڑ پر پہنچ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور بڑی فوجی کارروائی کا کھلم کھلا اشارہ دیتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران پر "شاید کل ہی” نیا حملہ شروع کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس غیر متوقع اور سخت ترین بیان نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تہران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اب بھی ایک "عظیم اور خوبصورت معاہدہ” کر کے مزید تباہ کن عسکری کارروائی سے بچ سکتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی حکومت معاہدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری کرے گی؟
جب ایک صحافی نے امریکی صدر سے پوچھا کہ کیا ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے حتمی جواب دینے سے گریز کیا اور کہا: ”اگر میں نے فیصلہ کر لیا ہے، تو کیا آپ کا خیال ہے کہ میں آپ کو پیشگی بتاؤں گا کہ میں حملہ کرنے جا رہا ہوں؟ شاید کل ہی!“
امریکی جریدے ‘دی ہل’ (The Hill) اور ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران پر نئے اور شدید حملوں کے مکمل تیار شدہ عسکری منصوبے وائٹ ہاؤس اور سکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ (Pete Hegseth) کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اس سے قبل بی-2 اسپرٹ (B-2 Stealth Bombers) کے ذریعے کی جانے والی کارروائیاں اور تباہی دیرپا نتائج اور تہران کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ پینٹاگون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کا بنیادی کام صدر مملکت کو تمام ممکنہ عسکری آپشنز فراہم کرنا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک صابرین نیوز (Sabereen News) نے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کی صبح سے جنوبی عراق کی فضائی حدود میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو انتہائی نچلی پروازیں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں ممکنہ نئے حملے کی سرگوشیاں تیز ہو گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہونے پر پینٹاگون اور امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں سفارتکاروں اور غیر ضروری عملے کا انخلا تیز کر دیا ہے۔ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی میں تنگنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے کوششیں بھی متوازی طور پر جاری ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا کا حتمی ہدف ایران کو مستقل طور پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران حتمی معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا واشنگٹن گھنٹوں میں نئے اور شدید ترین حملوں کا بٹن دبا دیتا ہے۔
ایران پر دوبارہ حملے کا کاؤنٹ ڈاؤن؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘کل ہی حملے’ کی دھمکی، سینٹ کام جنگ کے تیار ، امریکہ کی آخری وارننگ!

