عمرکوٹ ( نامہ نگار )
آل سندھ بھیل پنچایت کی جانب سے ضلعی صدر ہیرا لال جینانی کی قیادت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، آٹا، چینی، گھی، چاول، سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ہوشربا قیمتوں، ایل پی جی گیس کی مصنوعی قلت اور سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی نہ بنانے کے خلاف تین تلوار سے پریس کلب عمرکوٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں میر چند سیجانی، پریتم بھیمانی، نیبراج، پربھو مل، تارا چند، کامریڈ بھورو مل، کامریڈ تیرتھ بھیمانی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب، مزدور اور محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش، سبزیوں، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عوام کو ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے اور سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے غریب خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کسان، مزدور اور محنت کش طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، لیکن عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرے، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کے خلاف کارروائی کرے اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیا کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنائے۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اشیائے خوردونوش، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں پر قابو پایا جائے اور غریب خاندانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

