ویب ڈیسک
دنیا بھر میں ایک بار پھر سے نئے وائرس کی آمد نے ہلچل مچا دی ہے، اور اس بار سوشل میڈیا اور خبروں کی زینت بننے والا نام ’شامونڈا وائرس‘ (Shamonda Virus) ہے۔ فرانس میں اس وائرس کا پہلا انسانی کیس اور ایک مریض کی موت سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ آیا یہ کوئی نئی عالمی وبا تو نہیں بننے جا رہی؟
شامونڈا وائرس اصل میں کیا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق، شامونڈا وائرس کوئی نیا انسان ساختہ یا انسانوں میں پھیلنے والا وائرس نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی طور پر مویشیوں (جیسے گائے، بھیڑوں اور بکریوں) میں پایا جانے والا ایک وائرس ہے جسے سب سے پہلے 1965ء میں نائیجیریا میں دریافت کیا گیا تھا۔ حالیہ مہوں میں یہ وائرس یورپ کے مختلف حصوں (بشمول جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور فرانس) کے جانوروں میں بھی پایا گیا ہے۔
یہ کیسے پھیلتا ہے؟
یہ وائرس براہِ راست ایک جانور سے دوسرے جانور یا انسان میں نہیں پھیلتا، بلکہ یہ مخصوص کیڑوں (Midges) کے کاٹنے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے۔ متاثرہ جانوروں میں بخار، اسہال، دودھ کی پیداوار میں کمی اور کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
کیا انسانوں کے لیے خطرناک ہے؟
عالمی طبی اداروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس میں جو پہلا انسانی کیس سامنے آیا ہے، وہ ایک ایسا مریض تھا جو پہلے ہی سے شدید پیچیدہ بیماریوں اور انتہائی کمزور مدافعتی نظام کا شکار تھا۔
طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فی الحال عام عوام کے لیے اس سے کسی بڑی وبا یا خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، کیونکہ یہ وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوتا۔ عالمی ادارے اس پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ وائرس موت کی اصل وجہ بنا یا اس کے پس منظر میں دیگر طبی وجوہات تھیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس مرحلے پر گھبرانے کی قطلاً ضرورت نہیں ہے، البتہ متعلقہ ادارے اس صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔

