کراچی : نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے رابعہ سٹی میں آن لائن پورنوگرافک اینیمیشن اور فریب پر مبنی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں ملوث 3 کمپنیوں پر چھاپہ مار کر 42 افراد گرفتار کرلیے۔ 12 بچوں کو بازیاب کرایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کراچی زون نے رابعہ سٹی میں چھاپہ مارا، این سی سی آئی اے کا ہدف تین ایسی کمپنیاں تھیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی صارفین کو فحش کارٹون اینیمیشنز، پورنوگرافک ڈیجیٹل مواد اور دیگر ڈیجیٹل ڈیزائننگ کی خدمات کی تیاری، فروغ اور آن لائن فروخت میں ملوث تھیں۔ آپریشن کے دوران کمپنی کے مالکان اور ملازمین سمیت 42 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مزید تکنیکی جانچ اور ڈیجیٹل فارنزک تجزیے کے لیے 41 موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ ہزار ڈالر میں بچوں کی غیر اخلاقی اینیمیٹڈ ویڈیوز بنا کر امریکہ اور جرمنی میں فروخت کیا کرتے تھے گلستان جوہر کے علاقے میں رابعہ سٹی کے تین فلیٹس میں پکسل کرافٹ pixil craft , آرٹ آفس اور آرٹس ڈیزائن کے نام سے تین کمپنیاں چل رہی تھی تینوں کمپنیوں کے مالکان جن کے نام فدا حسین، دانش، محسن اور احسان ہیں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ، یہ تینوں کمپنیاں جرمنی اور امریکہ کے کلائنٹس سے رابطے میں تھی، ارٹ ورک کے نام پر کراچی میں کم عمر بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنواتے پھر انہیں کارٹون کی شکل دیتے، اور ہزار ڈالر میں فروخت کیا کرتے تھے، گروہ کے کارندے ہر بچے کو چھ ہزار روپے ایک ویڈیو کے دیا کرتے تھے کمپنی کے ملازمین سوشل میڈیا پلیٹ فارم جن میں انسٹاگرام اور ٹوئٹر بھی شامل ہیں وہاں پر خواتین کے نام سے پروفائل بناتے اور بین الاقوامی کلائنٹ سے رابطہ کرتے، انہی اکاؤنٹس کے ذریعے انہیں ویڈیوز بھیجی جاتی ، تینوں کمپنیوں پر چھاپے کے دوران 40 سے زائد موبائل فون بھی برامد کیے گئے جنہیں فورنزک کے لیے بھیجا گیا ہے
ان اکاؤنٹس کے ذریعے وہ لوگو ڈیزائننگ، بینرز، ڈیجیٹل عکاسی (illustrations)، اینیمیشنز اور جنسی طور پر واضح کارٹون پورنو گرافی سمیت مختلف خدمات کی تشہیر کرتے اور پیشکش کرتے تھے۔
حکام کے مطابق ان الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ایجنٹس نے غیر ملکی صارفین سے رابطہ کرنے اور فحش اینیمیٹڈ مواد کے آرڈرز حاصل کرنے کے لیے گمراہ کن شناخت کا استعمال کیا۔
حکام کے مطابق ایک کمپنی فدا حسین نامی شخص کی ملکیت ہے جو تقریباً دو سال سے کام کر رہی تھی اور بین الاقوامی کلائنٹس کو آن لائن لوگو ڈیزائننگ، بینینر ڈیزائننگ اور دیگر ڈیجیٹل آرٹ ورک کی خدمات فراہم کرنے میں مصروف تھی، کمپنی سے 19موبائل فون ضبط کیے گئے۔
این سی سی آئی اےحکام کے مطابق مشتبہ سرگرمیوں کی نوعیت اور وسعت کا تعین کرنے کے لیے ضبط شدہ موبائل فونز کو تکنیکی اور فارنزک جانچ کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیش کار گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا تعین کرنے، الزامات کی تصدیق کرنے اور یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا قابل اطلاق پاکستانی قوانین کے تحت جرم سرزد ہوئے ہیں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ڈیجیٹل کمیونیکیشنز، مشتبہ فحش اینیمیٹڈ مواد، اور دیگر متعلقہ الیکٹرانک شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ تفتیش بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ لین دین میں فرضی اور جعلی آن لائن شناخت کے مشتبہ استعمال کا بھی جائزہ لے گی۔
NCCIA کا چھاپہ ، فحش کارٹون فلمیں بنانے اور بیرون ملک ڈسٹری بیوٹ کرنیوالا گروہ پکڑا گیا، 42 گرفتار،12 بچے بازیاب

