اسلام آباد (ویب ڈیسک)
مستحق اور نادار طبقے کی مالی معاونت کے لیے قائم کیے جانے والے ملک کے سب سے بڑے فلاحی ادارے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں اربوں روپے کی کرپشن اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کا ہولناک انکشاف ہوا ہے۔حالیہ آڈٹ رپورٹس اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے مطابق فلاحی فنڈز میں مجموعی طور پر 24 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ رقم ایسے مد میں خرچ یا غائب کی گئی جو براہ راست غریب عوام کا حق تھی۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں صرف مافیا ہی نہیں بلکہ ایک لاکھ سے زائد ایسے سرکاری ملازمین بھی باقاعدگی سے امدادی رقوم وصول کرتے رہے جو پہلے ہی سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔ بااختیار اور ملازم ہونے کے باوجود ان افراد کی جانب سے غریبوں کا وظیفہ ہڑپ کرنا قومی اداروں کی کارکردگی اور مانیٹرنگ کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔سماجی اور معاشی ماہرین نے اس لرزہ خیز انکشاف پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ:فنڈز میں خرد برد کرنے والے تمام عناصر اور سرکاری ملازمین کو فوری طور پر بے نقاب کر کے سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔غیر قانونی طور پر نکالی جانے والی تمام رقوم کی پائی پائی وصول کی جائے۔نادرا (NADRA) اور دیگر اداروں کے ڈیٹا بیس کو مزید مربوط بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی غیر مستحق شخص قومی خزانے سے منہ نہ مار سکے۔

