ٹھٹھہ رپورٹ بیوروچیف
مہشوری اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے سندھ کے وزیر برائے اقلیتی امور شام سندر آڈوانی پر شیڈول کاسٹ برادری کے جائز مسائل حل نہ کرنے اور مسلسل نظرانداز کرنے کا شدید الزام عائد کرتے ہوئے 6 نومبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سلسلے میں پریس کلب گھارو میں ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے مہشوری برادری کے مکھی بابو معراج، جنرل سیکریٹری وشال مہشوری، نائب صدر انیل کمار، پاکستان پیپلز پارٹی کے اقلیتی رہنما لال مہشوری اور چیئرمین مہشوری برادری گھارو بابن آشوانی نے خطاب کیا۔رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اقلیتی امور شام سندر آڈوانی شیڈول کاسٹ برادری کے جائز مسائل حل کرنے میں بالکل دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ برادری کے افراد اپنے مسائل کے حل کے لیے متعدد بار کراچی میں واقع وزیر کے دفتر کے چکر لگا چکے ہیں، لیکن انہیں ملاقات کے لیے بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے شام سندر آڈوانی کو اقلیتی امور کی وزارت کی ذمہ داری سونپی ہے، مگر جب اقلیتی برادری کے لوگ اپنے مسائل لے کر ان کے پاس جاتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ملاقات ہونے کی صورت میں بھی بعض اہم مسائل حل کرنے سے صاف انکار کر دیا جاتا ہے۔مہشوری برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر اقلیتی برادری کو اپنے جائز حقوق اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی بار بار دفاتر کے چکر کاٹنے پڑیں تو اس سے برادری میں مایوسی اور احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ اقلیتی امور کی وزارت تمام اقلیتی برادریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات اٹھائے۔پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما فریال تالپور، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ وزیر اقلیتی امور شام سندر آڈوانی کے مبینہ رویے اور اقلیتی برادری کے مسائل حل نہ ہونے کے معاملے کی فوری تحقیقات کروائیں تاکہ برادری میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہو سکے اور انہیں ان کے جائز حقوق حاصل ہو سکیں۔آخر میں انہوں نے باضابطہ اعلان کیا کہ 6 نومبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے اقلیتی برادری کے ہزاروں افراد جمع ہو کر وزیر اقلیتی امور کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ رہنماؤں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی برادری کے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر ان کے حل کو یقینی بنایا جائے۔

