سانگھڑ (اشفاق سلہری)
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا کوئی پسندیدہ عمل نہیں تھا، بلکہ یہ حالات کی مجبوری تھی۔سانگھڑ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب کسی صوبے کا وزیراعلیٰ وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی ترقی کے لیے کام کرنے کے بجائے وفاق سے محاذ آرائی کی تیاری کرے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے حکومت کرنے کا کیا حق ہے۔ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن وفاق کو دھمکیاں دینے اور صوبے میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ بندوق اٹھا کر وفاق پر چڑھائی نہیں کر سکتا۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں مسلسل انتشار کی سیاست کی جا رہی تھی اور اندرونِ خانہ تصادم کی تیاری تھی، جس سے دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہو رہا تھا اور اس کے اثرات دیگر صوبوں تک پھیلنے کا خدشہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد مجبوری میں گورنر راج کا فیصلہ کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ ملک میں دوبارہ سانحہ اے پی ایس جیسا کوئی افسوسناک واقعہ پیش آئے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شازیہ مری نے واضح کیا کہ یہ اختیار صرف متعلقہ صوبے کی منتخب اسمبلی کو حاصل ہے، اور سندھ اسمبلی اس کی پہلے ہی مخالفت کر چکی ہے اور آئندہ بھی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی۔



