واشنگٹن / لندن : دنیا بھر کی حکومتیں، تکنیکی ادارے اور ایمیزون جیسی بڑی عالمی کمپنیاں اپنے ویب سسٹمز کو ایک انتہائی خطرناک اور سنگین سائبر سیکیورٹی خطرے سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہیں۔ یہ سیکیورٹی خامی دنیا کے مقبول ترین پروگرامنگ فریم ورک پی ایچ پی (PHP) میں دریافت ہوئی ہے، جو انٹرنیٹ پر موجود ایک بڑی تعداد میں ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کے بیک اینڈ سسٹمز کو چلانے کی بنیادی وجہ ہے۔
سائبر سیکیورٹی کی عالمی ماہر کمپنی ’وِز‘ (Wiz) کے محققین، جنہوں نے اس خامی کی نشاندہی کی ہے، کے مطابق یہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے سامنے آنے والے اب تک کے سب سے شدید اور پیچیدہ سیکیورٹی نقصانات میں سے ایک ہے۔
اندازوں کے مطابق اس خامی سے انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اور کروڑوں ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی بانی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ (OpenAI) نے بھی اس انکشاف کی توثیق کرتے ہوئے اسے حالیہ سالوں کا سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیا ہے۔
پی ایچ پی (PHP) کا نظام اور خطرے کی نوعیت
پی ایچ پی (ہائپر ٹیکسٹ پری پروسیسر) ایک ایسی بنیادی پروگرامنگ زبان اور ویب ٹیکنالوجی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز کے پیچھے متحرک رہتی ہے۔ ان میں:
ویکیپیڈیا (Wikipedia)
ای-کمرس اور آن لائن شاپنگ سائٹس (مثلاً ایمیزون وغیرہ)
ورڈپریس (WordPress): دنیا کا سب سے بڑا کنٹینٹ مینجمنٹ سسٹم جس پر کروڑوں بلاگز اور ویب سائٹس قائم ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جب کوئی صارف کسی ویب سائٹ پر جاتا ہے تو پی ایچ پی بیک گراؤنڈ میں ڈیٹا بیس سے معلومات اکٹھی کر کے اسے پیش کرتی ہے۔ تاہم، تازہ ترین سیکیورٹی سوراخ کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز بغیر کسی اجازت یا پاس ورڈ کے براہِ راست ویب سرورز کا مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں اور حساس ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں۔
اس سنگین مسئلے کی پیش نظر امریکہ اور یورپی یونین سمیت دنیا کی مختلف حکومتوں کی جانب سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں:
سرکاری آن لائن سروسز کی عارضی معطلی:
سائبر حملوں سے بچنے کے لیے متعدد یورپی ممالک نے اپنی اہم سرکاری ویب سائٹس اور ڈیجیٹل سروسز کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا ویب سائٹ ’ویکیپیڈیا‘ نے بھی حفاظتی پیش بندی کے طور پر اپنے پلیٹ فارم کے کچھ حصوں کو عارضی طور پر بند کیا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے اپنے تمام سرکاری ڈیٹا سسٹمز کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے اہم انفراسٹرکچر پر اس کے کوئی اثرات مرتب ہوئے ہیں یا نہیں۔
سائبر ماہرین کا خبردار کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ہیکرز کے لیے ان خامیوں کا فائدہ اٹھانا انتہائی تیز اور آسان بنا دیتا ہے۔ چنانچہ جب تک متعلقہ سیکیورٹی پیچز (Patches) مکمل طور پر اپ ڈیٹ نہیں ہو جاتے، دنیا بھر کے ویب سرورز کے متاثر ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

